
نئی دہلی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا، پولیس کو مسلمانوں کیخلاف استعمال کیا گیا،انہوں نے متحرک طریقے سے ہندو انتہا پسندو ں کی کھل کر مدد کی
پولیس سے مدد مانگنا بھی مسلمانوں کا جرم بن گیا،ہندو انتہا پسندوں کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کو بندوقوں کے بجائے لاٹھیاں تھما دی گئیں، نیویارک ٹائمز
نیویارک(نیوزڈیسک) امریکی اخبار نے نئی دہلی میں مسلم کشی میں پولیس کے متعصبانہ اور ظالمانہ کردار سے پردہ اٹھادیا ہے، دہلی فسادات پر اپنی ایک رپورٹ میں نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ دہلی کے مسلم کش فسادات میں بھارتی پولیس نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا، ثبوتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نئی دہلی پولیس کو مسلمانوں کیخلاف استعمال کیا گیا،انہوں نے متحرک طریقے سے ہندو انتہا پسندو ں کی کھل کر مدد کی، دہلی پولیس کی کئی ویڈیو منظر عام پر آئیں جس میں انھیں مسلمان مظاہرین پر حملہ کرتے ہوئے اور ہندو ہجوم کو اس میں شامل ہونے پر زور دیتے ہوئے دیکھا گیا، ایک رنگ ساز نے بتایا کہ گھر جاتے ہوئے وہ فساد میں گھر گیا تو اس نے پولیس سے مدد مانگی اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی اہلکاروں نے اسے اور بعض دوسرے مسلمانوں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ایک مسلمان جاں بحق اور کئی شدید زخمی ہوگئے، پولیس کمانڈر کا حوالے دیتے کہا گیا کہ جیسے ہی تشدد شروع ہوا، حکام نے ہمیں اپنی بندوقیں تھانے میں رکھنے کا کہہ دیا تاہم نیویارک ٹائمز کے صحافیوں نے بعد میں سنا کہ حکام ایک دوسرے پر چیخ رہے تھے کہ انہیں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے لاٹھیاں نہیں،بندوقوں کی ضرورت ہے، جو لوگ مارے گئے ان میں زیادہ تر مسلمان تھے۔


































