
ایٹمی معاہدہ ناکام ہوگیا، نئی شقیں شامل کرنا ہوں گی،جرمنی ،فرانس اور جرمنی کی اپنی وعدہ خلافیوں پر شرمساری کے بجائے ایران پر الزامات کی بارش
یورپ خطے میں جاری اپنے شرپسندانہ اقدامات ترک کرے پھر مذاکرات کی بات کرے، جب تک ایسا نہیں کرتا اپنا منہ بند رکھے،ایرانی وزیر خارجہ کا منہ توڑ جواب
تہران (برلن نیوز ڈیسک) امریکی کاسہ لیسی میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ پر مشتمل یورپی ٹرائیکا نے بھی ایٹمی معاہدے پر شرانگیز واویلا شروع کردیا اور اپنی وعدہ خلافیوں پر شرمساری کے بجائے ایران پر الزامات کی بارش کردی ،فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں ایران کی جانب سے نطنز کی ایٹمی سائ ٹ میں جدید ترین سینٹری فیوج مشینوں کی تنصیب کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ اگر ایران سفارت کاری کے ماحول کو باقی رکھنا چاہتا ہے تو اسے ایٹمی معاہدے کی پابندی کرنا چاہیے، ایٹمی معاہدے کا دائرہ وسیع کرنے اور اس میں نئی شقوں کے اضافے کی ضرورت ہے ،جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا تھا کہ جرمنی ایک ایسا متبادل ایٹمی معاہدے کا خواہاں ہے جو ایران کے ساتھ طے شدہ موجودہ ایٹمی معاہدے سے وسیع تر ہو ،موجودہ ایٹمی معاہدہ ناکافی ہے حالانکہ ان ممالک نے خود ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے جرمنی کو نصیحت کی ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی اور خلیج فارس کے علاقے میں شیطنت و شرپسندی سے باز آ جائے،وہ معاہدے پرایرانی اقدامات پر کوئی بات کرنے سے پہلے نفرت انگیز کورونائی نسل پرستی، ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی اور مغربی ایشیا میں شرپسندانہ اقدامات، خلیجی ملکوں کو سو ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت اور اسرائیل کے دہشت گردانہ اقدامات کی بے چوں چرا اور اندھی حمایت سے باز آجائیں ،مغرب نے یمن پر مسلط کردہ جنگ کی حمایت کی اور فلسطینیوں کی سرزمین کے اسرائیل کے ساتھ ملحق کرنے کے گھناوَنے اقدام کی اپنے کردار سے کھل کر مدد کی ہے،مغرب نے ایرانی سائنسدان کے وحشیانہ قتل کی مذمت تک نہیں کی انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یورپ پہلے خطے میں جاری اپنے شرپسندانہ اقدامات کو ترک کرے اور پھر مذاکرات کی بات کرے، اور جب تک وہ شرارت پر مبنی اپنے اقدامات ترک نہیں کرتا اپنا منہ بند رکھے،ادھر ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے حوالے سے تہران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی


































