
امریکا کا 15جنوری تک عراق وافغانستان میں فوجیوں کی تعداد ڈھائی ڈھائی ہزار کرنے کا اعلان، نیٹو کی مخالفت ، مشن میں توسیع دینے کا فیصلہ کرلیا
قبل ازوقت انخلا کے نتیجے میں امریکا اور اتحادیوں پر دہشتگرد حملوں کا خدشہ ہے،نیٹو، یہ اقدام دہشتگردوں کیلئے دروازے کھولنے کے مترادف نہیں ،امریکا
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) افغانستان اور عراق سے فوجی انخلا کے اعلان پر امریکا اور نیٹو میں ٹھن گئی ،امریکا نے فوجیوں کی تعداد میں کمی نیٹو نے اضافے کو اعلان کردیا، پنٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر ملر کا کہنا تھا کہ امریکا نے خطے میں زیادہ تر مرکزی اہداف حاصل کرلیے ہیں ، داعش کو بھی شکست دیدی گئی ہے، یہ وقت ہے کہ امریکی فوجیوں کو گھر واپس لایا جائے ،عراق اور افغانستان میں فوجیوں کی تعداد ڈھائی ڈھائی ہزار تک لائی جائے گی، یہ اقدام نومنتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری سے پہلے کیا جائے گا، یہ اقدام امریکا، افغانستان اور عراق میں دہشتگردوں کیلئے دروازے کھولنے کے مترادف نہیں ،نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان سے قبل ازوقت انخلا کے نتیجے میں امریکا اور اتحادیوں پر دہشتگرد حملوں کا خدشہ ہے، ہم افغانستان میں تقریباً 20 سال سے ہیں اور کوئی بھی نیٹو اتحادی وہاں ضرورت سے زیادہ طویل عرصے تک نہیں رہنا چاہتا، لیکن ایک ہی وقت میں بہت جلد، یا غیر منظم انداز میں افغانستان چھوڑنے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے، اس لیے نیٹو اتحاد نہ صرف افغان حکومت و فورسسز کی ٹریننگ، رہنمائی و حمایت جاری رکھے گا بلکہ 2024 تک ان کے ساتھ مالی تعاون بھی جاری رہے گا،تمام رکن ممالک ایک ساتھ افغانستان سے نکلیں گے۔


































