
امریکا کی نئی انتظامیہ نے خاشقجی قتل کی خفیہ رپورٹ منظرعام پرلانے کا فیصلہ کرلیا،ٹرمپ انتظامیہ نے رپورٹ جاری کرنے سے روک دیا تھا،وائٹ ہاوس
سعودیہ اپنے حقوق انسانی کے ریکارڈ میں بہتری لائے،ترجمان،امریکا بن سلمان کے بھائی خالد بن سلمان کو اقتدار میں لانے کی تیاری کررہا ہے،رپورٹ
واشنگٹن (نیوزڈیسک) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا گھیرا تنگ ہونے لگا، امریکا کی نئی انتظامیہ نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق خفیہ رپورٹ منظرعام پرلانے کا فیصلہ کرلیا، سی آئی اے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار کون ہے اور کس نے اس کا حکم دیا تھا، وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے نیوزبریفنگ میں کہا کہ یہ قانون ہے اور ہم اس قانون پر عمل کریں گے، حکومت اس رپورٹ کو جاری کرنے پر تیار ہے جسے جاری کرنے اور قانون پر عمل کرنے سے سابق صدر ٹرمپ نے اپنی ٹیم کوروک دیا تھا، امریکا توقع کرتا ہے کہ سعودی عرب اپنے حقوق انسانی کے ریکارڈ میں بہتری لائے گا ، جس میں حقوق نسواں کے علمبرداروں اور دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا شامل ہے ، میڈیا رپورٹ کے مطابق خفیہ رپورٹ کو منظرعام پر لائے کے معنی یہ ہیں کہ جوبائیڈن انتظامیہ باضابطہ طور بن سلمان کو جمال خاشقچی کے بہیمانہ قتل کا ذمہ دار قرار دینے کا اراداہ رکھتی ہے ،بائیڈن انتظامیہ کے قریبی حلقے اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ نئے امریکی حکام محمد بن سلمان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان کو اقتدار میں لانے کی تیاری کر رہے ہیں


































