
تحریر: محمد حسین راجی
ایرانی قوم کے نام ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بندوق اور میزائل بنانے کے بجائے اسپتال اور اسکول بنانے چاہئیں۔ یہ مضحکہ خیز تجویز ایک ایسے عالم میں سامنے آئی ہے کہ ایران نے مالی مشکلات کے باوجود تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ امریکہ کو ان شعبوں میں اہم ملکی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ 2024ء میں امریکی فوجی بجٹ تقریباً 997 بلین ڈالر تھا، جبکہ ایران کا فوجی بجٹ 10 بلین ڈالر سے کم بتایا گیا ہے، جو کہ امریکہ سے 100 گنا کم ہے۔ امریکی تعلیمی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک میں طلباء کے اسکور عالمی معیار سے کم ہیں، طلباء کا قرض 1.7 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہوچکا ہے اور محکمہ تعلیم کو بند کرنے کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جس سے لاکھوں بچوں کی معیاری تعلیم تک رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔
صحت کے شعبے میں خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود امریکہ دنیا کے مہنگے ترین صحت کے نظاموں میں سے ایک ہے۔ اس نظام کو وسیع پیمانے پر عدم مساوات، کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے اور لاکھوں لوگ زیادہ اخراجات کی وجہ سے صحت کی خدمات تک رسائی سے محروم ہیں۔ اس کے برعکس ایران نے 1979ء کے انقلاب کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ملک میں خواندگی کی شرح تقریباً 30 فیصد سے بڑھ کر 90 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور یونیورسٹیوں میں خواتین کے داخلے میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔
ایران کے تعلیمی نظام کو جدید بنایا گیا ہے اور صحت کے شعبے میں، زچہ و بچہ کی اموات میں تیزی سے کمی آئی ہے، ویکسینیشن کی کوریج 95 فیصد سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے اور بنیادی صحت کی دیکھ بھال (PHC) کے نظام نے دیہی اور شہری علاقوں میں صحت کی خدمات تک رسائی کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔ یہ کامیابیاں ایسے بجٹ سے حاصل کی گئی ہیں، جو امریکہ کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے مالی رکاوٹوں اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود تعلیم اور صحت میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جبکہ امریکہ کو ان شعبوں میں اہم داخلی چیلنجوں کا سامنا ہے، جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


































