
تحریر: حنیف غفاری
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حال ہی میں یورپ کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ روسی جارحیت کے خلاف یوکرین کی فتح یورپی اقدار کی حفاظت کیلئے اشد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین یورپ کے سب سے بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یورپی یونین میں شامل ہونے کی امید یوکرینی عوام کو موجودہ راستہ اور پالیسیاں جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ان بیانات کے حقیقی اسباب جاننا زیادہ دشوار نہیں ہے۔ وہ یورپی حکمرانوں سے شدید ناراض ہیں۔ 2005ء کے آغاز میں جب یوکرین میں نارنجی انقلاب رونما ہوا اور اس کے نتیجے میں مغرب نواز ٹولہ برسراقتدار آیا تو انہیں یورپ سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں۔
یوکرین میں برسراقتدار آنے والا یہ مغرب نواز ٹولہ یورپی یونین میں رکنیت حاصل کرنے اور نیٹو میں شامل ہونے کے بارے میں بہت زیادہ امیدوار تھا۔ وہ درحقیقت اسے اپنا حق سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ انہوں نے جو کارنامہ مغرب کے حق میں انجام دیا ہے اس کا کم ترین انعام یہی ہے۔ لیکن اب یوکرین میں نارنجی انقلاب کو 18 سال کا عرصہ بیت چکا ہے جبکہ مغرب نواز یوکرینی حکمران اب تک یورپی یونین میں رکنیت حاصل کرنے کیلئے یورپی حکمرانوں کے منت ترلے کرنے میں مصروف ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے اور یقیناً ولادیمیر زیلنسکی اور دیگر مغرب نواز یوکرینی سیاست دان اس کا جواب دینے سے کتراتے نظر آئیں گے۔ وہ اہم سوال یہ ہے کہ کیوں مغرب نے گذشتہ 18 برس کے دوران ان سے کئے گئے کم از کم وعدے پر بھی عمل نہیں کیا جو یورپی یونین میں یوکرین کی رکنیت اور نیٹو میں اس کی شمولیت پر مبنی تھا؟
اور کیا یہ وعدہ خلافی "روس کی جانب سے دھمکیوں” کے نتیجے میں انجام پائی ہے؟ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ولادیمیر زیلنسکی ایک طرف یورپی پارلیمنٹ میں روس کے مقابلے میں یورپ کا دفاع کرنے کا ڈرامہ رچا رہا ہے جبکہ دوسری طرف یورپی یونین میں یوکرین کی رکنیت کے روڈمیپ کیلئے یورپی حکمرانوں کے منت ترلے کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے درحقیقت کیف اور برسلز کے درمیان یکطرفہ تعلقات کا پردہ چاک کیا ہے جس میں یوکرین مغربی ممالک کی زمین پر کھیلتے ہوئے ماسکو کے مقابلے میں مغرب کا ایک مہرہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف یوکرینی حکمرانوں کو یورپ کی جانب سے کم از کم مطالبات پیش کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ یہ وہ بدترین سودا ہے جو ولادیمیر زیلنسکی، پروشینکو اور کولبا سمیت یوکرین کے دیگر مغرب نواز سیاستدانوں نے مغربی دنیا کے ساتھ انجام دیا ہے۔
دوسری طرف، یورپی پارلیمنٹ کے اراکین اور حتی یورپی ممالک کے حکام ایک طرف ولادیمیر زیلنسکی کو روس کے خلاف ڈٹے رہنے کی ترغیب دلا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف نیٹو اور یورپی یونین میں یوکرین کی شمولیت اور رکنیت کا ناممکن ہونے کے راگ الاپ رہے ہیں۔ ان کی جانب سے یہ موقف بارہا دہرایا جا چکا ہے۔ یورپی حکمرانوں کے اس موقف کا سبب واضح ہے۔ یوکرین نامی بحران زدہ ملک جو جنگ اختتام پذیر ہونے کے بعد تعمیر نو کیلئے بھاری اخراجات کا محتاج ہو گا، کس طرح یورپی یونین یا نیٹو کیلئے ایک موثر رکن کا کردار ادا کر سکتا ہے؟ ایسے میں یورپی حکمرانوں کیلئے اس بات کی بھی ذرہ برابر اہمیت نہیں ہے کہ یوکرین درحقیقت نیٹو کے مشرق کی جانب پھیلاو پر مبنی پالیسیوں کی ہی بھینٹ چڑھا ہے۔ مختصر یہ کہ آج یورپی یونین اور نیٹو دونوں کے دروازے یوکرین پر بند ہو چکے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں یوکرین کے مغرب نواز حکمرانوں کا روڈ میپ بھی ابہام کا شکار ہے۔ آخر میں دیکھتے ہیں کہ ولادیمیر زیلنسکی یوکرین جنگ سے متعلق حقیقت میں مغربی حکمرانوں سے کیا چاہتے ہیں؟ اگرچہ جرمنی کی جانب سے یوکرین کو لیوپارڈ ٹینکوں کی فراہمی اور برطانیہ کی جانب سے یوکرینی پائلٹس کو تربیت دینا، جنگ میں مغرب کی براہ راست مداخلت کا مصداق ٹھہرتا ہے اور ممکن ہے روس کی جانب سے اس پر ردعمل بھی سامنے آئے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یوکرین کی جانب سے جنگ سے متعلق مغرب سے مطالبات اور مغرب کی جانب سے یوکرین کی حالیہ مدد اور حمایت میں کوئی تناسب نہیں پایا جاتا۔ زیلنسکی کے مطالبات میں نو فلائی زون کا قیام، روس سے انرجی مصنوعات خریدنے پر مکمل پابندی اور وسیع فضائی دفاعی سسٹم کی فراہمی شامل تھے۔
ان میں سے کوئی بھی مطالبہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، کیسنجر جیسے امریکہ کے معروف اسٹریٹجک ماہرین یوکرین میں جنگ بندی کیلئے یوکرین کی جانب سے سرکاری طور پر جزیرہ کریمہ کی علیحدگی کو قبول کر لینے اور نیٹو میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کروانے کو ضروری قرار دے رہے ہیں۔ پہلے تو یہ باتیں صرف امریکہ تک محدود تھیں لیکن اب یورپی یونین حتی یورپی حکمرانوں سے بھی سنی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں بہتر یہ ہو گا کہ یوکرین کے صدر یورپی یونین کے میدان میں یکطرفہ کھیلنے پر فخر کا اظہار کرنے کی بجائے مستقبل میں درپیش سخت دنوں کی فکر کریں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چاہے یوکرین جنگ جاری رہے یا جنگ بندی انجام پائے، دونوں صورتوں میں ایک ہی شخص کی ہار ہو گی اور وہ ولادیمیر زیلنسکی ہے۔


































