
گریہ کیوں؟
شہید مطہری بیان کرتے ہیں:
ایک جوان نے مجھ سے پوچھا؛ کیا مصائب اہل بیت کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت ہے؟ مکتب حسین کو زندہ کرنے کے لیے صرف فلسفہ اور انکے مقاصد بیان کئے جائیں۔ کیا مصائب بیان کرنا ضروری ہے؟
میں نے جواب دیا: ہاں بالکل! کیونکہ خود اہل بیت کا حکم ہے.
اور اس کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر وہ مکتب جس میں احساس و جذبات کی چاشنی نہ ہو اور صرف فلسفہ اور فکر ہو تو اتنا روح میں اثر نہیں کرتا اور ایسے مکتب کی بقا کا امکان نہیں۔ یہ احساسات ہیں کہ مکتب کو حرارت بخشتے ہیں، معنی کو روشن اور واضح کرتے ہیں اور اس کی منطق بتاتے ہیں۔
اگر مکتب امام حسین(ع) کو مسلسل صرف مکتب فکری کے طور پر بیان کیا جائے اور اس کی حرارت اور جوش کو ہٹا دیا جائے تو یہ پھیکا اور پرانا ہو جائے گا۔ یہ معصومین کی دور اندیشی تھی کہ اس مکتب میں سے احساسات اور جذبات کی چاشنی کو گم نہ ہونے دیا۔


































