Fri Oct 09, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

گریہ کیوں؟

گریہ کیوں؟

شہید مطہری بیان کرتے ہیں:

ایک جوان نے مجھ سے پوچھا؛ کیا مصائب اہل بیت کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت ہے؟ مکتب حسین کو زندہ کرنے کے لیے صرف فلسفہ اور انکے مقاصد بیان کئے جائیں۔ کیا مصائب بیان کرنا ضروری ہے؟

میں نے جواب دیا: ہاں بالکل! کیونکہ خود اہل بیت کا حکم ہے.
اور اس کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر وہ مکتب جس میں احساس و جذبات کی چاشنی نہ ہو اور صرف فلسفہ اور فکر ہو تو اتنا روح میں اثر نہیں کرتا اور ایسے مکتب کی بقا کا امکان نہیں۔ یہ احساسات ہیں کہ مکتب کو حرارت بخشتے ہیں، معنی کو روشن اور واضح کرتے ہیں اور اس کی منطق بتاتے ہیں۔

اگر مکتب امام حسین(ع) کو مسلسل صرف مکتب فکری کے طور پر بیان کیا جائے اور اس کی حرارت اور جوش کو ہٹا دیا جائے تو یہ پھیکا اور پرانا ہو جائے گا۔ یہ معصومین کی دور اندیشی تھی کہ اس مکتب میں سے احساسات اور جذبات کی چاشنی کو گم نہ ہونے دیا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular