
خصوصی تحریر
امیرالمومنین علی علیہ السلام سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ مولا فرمائیے! آپ کے زمانے میں کفار کے ساتھ مسلمان کس طرح جنگ لڑتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ دورانِ جنگ کبھی کافر ہم پر غالب آ جاتے تھے اور کبھی ہم کفار پر غالب آ جاتے تھے لیکن آخری فتح بہرحال ہماری ہی ہوتی تھی۔ آج بھی عالم کفر کے مقابلے میں ایران جس طرح سے مسلسل نبردآزما ہے، اس صورت حال میں میدان مقاومت میں نشیب و فراز کا آنا ایک فطری امر ہے۔ اس وقت دوست دشمن سبھی تسلیم کر رہے ہیں کہ کئی طرح کی مشکلات کے باوجود میدان جنگ میں ایران کا پلا بھاری ہے۔ جنگ کے اور میدانوں کے علاوہ فضائی میدان میں بھی پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ بہت کم وقفے کے ساتھ ایران کے ہاتھوں امریکہ کے کئی جدید طیارے زمیں بوس ہوئے ہیں۔
اس حد تک بہرحال امریکہ کی کامیابی ہے کہ ان طیاروں میں سے ایک طیارے کے گمشدہ پائلٹ کو امریکہ نے ڈھونڈ نکالا ہے (اگر امریکہ کی یہ بات سچ ہے)۔ یہ بھی یاد رہے کہ اس امریکی ہواباز کو کسی ایرانی کے ہاتھ سے چھڑایا نہیں گیا۔ یہ واقعہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کے گھر پر اچانک رات کی تاریکی میں چند دہشت گرد حملہ آور ہو جائیں اور وہ اس گھر کی چاردیواری کے ایک حصے کو بھی پھلانگ لیں لیکن اس گھر کے محافظ ان دہشت گردوں کو ان کی قیمتی سواری اور جدید اسلحے سمیت گرفتار کر لیں۔ البتہ اس ہنگامے میں دہشت گردوں کا ایک ساتھ کسی طرح سے اپنے بیرونی ساتھیوں کے تعاون سے اس چنگل سے فرار ہو جائے۔ اس صورت میں کہ اس کا جدید اسلحہ اور اس کی دیو ہیکل سواری، جائے وقوعہ پر دیکھنے والوں کے لیے عبرت کا سامان بن جائے۔
یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اس تمام معرکے میں کیا وہ ایک حملہ آور جو اپنی جان بچا کر فرار ہوا، اس کے ساتھی یا اسے بھیجنے والے زیادہ کامیاب ٹھہرائے جائیں گے یا وہ جن کے گھر پر حملہ ہوا تھا اور انہوں نے حملہ آواروں کو بھاری نقصان پہنچایا؟ اسی مثال کو اگر امریکہ کے حالیہ آپریش سے جوڑا جائے تو پھر ہمیں بتایا جائے کہ اس میں ایرانیوں کا آخر نقصان کیا ہوا ہے؟ اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو اربوں ڈالروں کے جہاز تو امریکہ کے تباہ ہوئے ہیں اور پائلٹ ایک امریکہ کا موت و حیات کی کشمش میں مبتلا ہے۔ کہانی کے محض کسی ایک حصے کو ہی نہ دیکھا جائے بلکہ اسے شروع سے آخر تک پڑھا جائے۔


































