
نیویارک (نیٹ نیوز) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران امریکہ نے ایک بھارتی شہری کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز مسترد کر دی، جس پر پاکستان نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ وینومادھا ڈونگارا ان 4 بھارتیوں میں سے ایک تھا جنھیں پاکستان نے 2019ء میں اقوام متحدہ کی 1267 پابندیوں کی فہرست کے تحت دہشت گرد نامزد کرنے کی تجویز پیش کی تھی، دیگر تینوں کی شناخت اجوجسٹری، گوبنڈا پٹنائک اور انگارا اپا جی کے نام سے ہوئی۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ بھارتی شہری تحریک طالبان، جماعت الاحرار اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو مالی، تکنیکی اور مادی مدد فراہم کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور سرپرستی کرتے تھے۔
دفترخارجہ نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا کہ ڈونگارا کے نام پر اعتراض کیا گیا تھا لیکن امید ہے کہ دیگر 3 شہریوں کے معاملے پر یو این ایس سی 1267 پابندیوں کی کمیٹی معروضی اور شفاف انداز میں غور کرے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے پڑوس میں طویل تنازعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، بھارت نے پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے کیلئے دہشت گرد گروہوں کو تربیت، مالی اور مادی مدد فراہم کر کے پاکستان کے اندر دہشت گردی کو ہوا دی۔ انہوں نے کہا یہ شہری اب استثنیٰ کے ساتھ بھارت میں مقیم ہیں جو پاکستان کے اس موقف کو ثابت کرتا ہے کہ بھارت دہشت گردی کا ریاستی کفیل ہے۔ پاکستان نے 4 بھارتیوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کیلیے اقوام متحدہ کو درخواست دیدی۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے ہم پرامید ہیں دیگر تینوں کے نام اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل کئے جائیں گے۔


































