
تحریر: محمد رضا نقدی
ٹرمپ کے معاون وٹکوف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹرمپ ایران کی مزاحمت اور امریکہ کی جانب سے شدید فوجی دباؤ کے باوجود ہتھیار نہ ڈالنے پر حیران ہیں۔ یہ کہنا ضروری ہے کہ حیران کن بات ایران کی اسلامی مزاحمت نہیں بلکہ سپر پاور اور عالمی لیڈر ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک کے لیڈروں کی ناخواندگی اور جہالت ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر اور ان کے رہنماء نہ صرف تاریخ سے نابلد ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے ملک میں گذشتہ ایک دو دہائیوں کے واقعات کا جائزہ لینے کی بھی زحمت تک نہیں کی ہے۔ تقریباً 20 سال قبل جب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے پاس آسمان میں سیٹلائٹ نہیں تھا، نہ ہی کوئی ایسا بیلسٹک میزائل تھا، جو اسرائیلی دفاع کو عبور کرکے اسرائیل کو نشانہ بنا سکے، نہ ہی ان کے پاس ملکی فضائی دفاعی نظام تھا، جو دفاع کرسکے، نہ ہی ملک میں بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے ڈرون تھے۔ نہ ہی جہاز شکن میزائل، لانگ رینج یا دور مار میزائل تھے اور نہ ہی 110 ناٹ کی رفتار سے چلنے والی میزائل کشتیاں تھیں۔
آج ہمارے پاس نہ صرف بہت سے ہتھیار ہیں، بلکہ جہادی تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ چند سال قبل اسلامی مزاحمتی جماعتیں آج کے مقابلے میں دس فیصد بھی نہیں تھیں اور ہم بالکل خالی ہاتھ تھے۔ اس وقت جب ہم بے سرو سامانی کی حالت میں تھے، امریکہ اور یورپ نے صرف مغربی ایشیاء کے علاقے میں 9 طیارہ بردار بحری جہاز، 377 جنگی جہاز، 2800 مختلف جنگی طیارے اور 1.1 ملین جنگی دستے تعینات کیے تھے۔ ہم اس وقت ڈرے نہیں تھے! کیا اب ہم ڈریں گے۔؟ اس وقت کے امریکی صدر بش نے کہا تھا: "تمام ممالک کو اپنی ذمہ داریاں واضح کرنی چاہئیں، اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو آپ ہمارے خلاف ہیں اور ہم آپ کا احتساب کریں گے۔”
دنیا کے 200 ممالک میں سے واحد ملک جس نے یہ کہنے کی جرات کی کہ ہم امریکہ کے ساتھ نہیں ہیں، وہ اسلامی جمہوریہ ایران تھا۔ اب کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور چند دوسرے بحری جہازوں اور سو سے کم جنگی طیاروں کی آمد سے اسلامی جمہوریہ ایران خوف زدہ ہو جائے گا، حالانکہ آج ایک منظم اور طاقتور مزاحمت کی حمایت ہمارے ساتھ ہے۔ ہمارے جوان ان امریکی ہتھیاروں، بندرگاہوں اور دیگر ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرتے۔ جبرالٹر سے لے کر ہمالیہ کے دامن تک خطے میں زبردست مزاحمت، امریکی اور اسرائیلی فوجوں کو پکڑنے کے لیے منٹ گن رہی ہے۔ آپ کو ڈرنا چاہیئے، ہمیں نہیں۔ یہ چند قوتیں کچھ بھی نہیں ہیں، 24 سال پہلے کی تعداد اور موجودہ تعداد کو اس خطے میں لانے سے ہم نہیں گھبرائیں گے، کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ ہمارے ہاتھ ہتھیاروں سے بھرے ہوئے ہیں۔
ہمارے دل ایمان سے بھرے ہوئے ہیں۔ خدا ہمارے ساتھ ہے اور اگر ہم نے ہتھیاروں اور تنظیم میں کوئی کوتاہی کی ہے تو خدا وقت آنے پر اس کی ضرور تلافی کرے گا۔ وہ خدا جس نے 1979ء میں خالی ہاتھ امریکی ایجنٹوں پر فتح دی اور آج کی بغاوت کو شکست دی، وہ خدا جس نے طبس کے صحرا کی ریت کو ڈیلٹا افواج کو شکست دینے کے لیے مقرر کیا، وہ خدا جس نے خلیج فارس میں امریکی پرچم کے نیچے پہلا ٹینکر برجٹن کو ایک کان سے ٹکرایا اور آپ کی ساری ہیبتیں توڑ دیں، وہی خدا جس نے آپ کی فوجوں اور فوجیوں کو آپس میں الجھایا۔ جس خدا نے ان 47 سالوں میں دشمن کی درجنوں بغاوتوں کو ناکام بنایا اور آپ کو ابدی رسوائی سے دوچار کیا۔ آج وہی خدا انقلاب اسلامی کے ساتھ ہے اور آپ کے لئے گھات لگائے ہوئے ہے: "ان ربک لبالمرصاد”


































