Fri Oct 09, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

3 کروڑ 10 لاکھ ایرانی رضاکاروں پر مشتمل 1000 بٹالین کی تربیت کا آغاز

خصوصی رپورٹ: مہدی احمدی

اسلامی جمہوریہ ایران میں عوامی رضاکاروں کی مہم جانفدا کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ جانفدا مہم کے تحت ایک ہزار بٹالین تشکیل دینے اور اس مہم سے وابستہ 3 کروڑ 10 لاکھ رضاکاروں کی تربیت کے لیے منصوبہ بندی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ خبررساں ادارے فارس نیوز کے مطابق عوامی مہم جانفدا کے ترجمان ساسان زارع نے جانفدا کی ایک ہزار فوجی بٹالین کی تشکیل کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں اس مہم کے آغاز کے بارے میں کہا کہ جنگِ رمضان کے بعد جانفدا مہم نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور بہت جلد یہ ایک وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اصطلاح بن گئی۔ یہاں تک کہ جو شخص بھی شرافت، وطن دوستی اور حب الوطنی کا ثبوت پیش کرنا چاہتا تھا، وہ اس تصور کا استعمال کرتا تھا۔

31 ملین افراد کی جانفدا مہم میں رجسٹریشن:
زارع نے رجسٹریشن کرانے والے افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اضافی معلومات حاصل کرنے کے بعد ہمیں ان افراد کی صلاحیت کا زیادہ درست اندازہ ہوا ہے جنہوں نے ایران کے لیے جانفدا مہم میں شرکت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد تقریباً 31 ملین ہے، جن میں 32 فیصد خواتین اور 68 فیصد مرد ہیں۔ شرکاء کی عمری ساخت بھی خاصی نوجوان ہے اور اس مہم میں شامل ہونے والے 60 فیصد سے زیادہ افراد کی عمر 46 سال سے کم ہے۔ جانفدا مہم کے ترجمان کے مطابق، یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی نوجوان آبادی کے ایک بڑے حصے نے دفاع اور خدمت رسانی سے متعلق سرگرمیوں میں شرکت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

26 فیصد افراد نے دفاعی سرگرمیوں کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہے:
زارع نے شرکاء کی رضاکارانہ سرگرمیوں میں دلچسپی کے شعبوں کے بارے میں کہا کہ عوام سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی قومی آپریشن یا سرگرمی انجام دی جائے تو وہ کس شعبے میں حصہ لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26 فیصد افراد نے فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں کے لیے رضاکارانہ آمادگی ظاہر کی، 20 فیصد امداد و نجات اور متاثرین کی مدد کے شعبے میں، 20 فیصد سماجی خدمات کی فراہمی کے لیے، 17 فیصد ثقافتی، فنون اور میڈیا کی سرگرمیوں میں، 13 فیصد مسلسل مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے، جبکہ 5 فیصد نے دیگر مختلف شعبوں میں سرگرمی کے لیے آمادگی ظاہر کی۔

61 فیصد افراد مسلسل شرکت کے لیے تیار ہیں:
جانفدا مہم کے ترجمان نے رضاکارانہ سرگرمیوں کے لیے افراد کی جانب سے مختص کیے جانے والے وقت کے بارے میں کہا کہ 27 فیصد شرکاء نے بتایا کہ وہ روزانہ چند گھنٹے مسائل کے حل کے لیے وقت دے سکتے ہیں، 17 فیصد نے کہا کہ وہ ہفتے میں تین دن تک شرکت کر سکتے ہیں، جبکہ 18 فیصد صرف ہفتے کے اختتام پر سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 34 فیصد دیگر افراد نے بتایا کہ وہ تقریبات اور بحران کی صورت میں شرکت کر سکتے ہیں۔

تمام صوبوں سے شرکت:
زارع نے شرکاء کی جغرافیائی تقسیم کے بارے میں کہا کہ ملک کے تمام صوبوں سے شرکت ریکارڈ کی گئی ہے اور تمام شہروں سے بھی افراد نے اس مہم میں حصہ لیا ہے۔ تاہم دیہات کی سطح پر شرکت کا درست اندازہ لگانے کی سہولت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی جائزے میں تہران، خراسان رضوی، خوزستان، فارس، اصفہان اور مشرقی آذربائیجان جیسے صوبے شرکاء کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ شرکت والے صوبوں میں شامل ہیں۔ تاہم جب آبادی کے تناسب سے شرکت کو دیکھا جائے تو صورتِ حال مختلف ہو جاتی ہے اور کہگیلویہ و بویراحمد اور قم جیسے صوبے نسبتاً زیادہ شرکت والے صوبوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

جانفدا کا پہلا قومی آپریشن، ایک ہزار بٹالین کی تربیت:
جانفدا مہم کے ترجمان نے اس مہم کے بنیادی منصوبے کے بارے میں کہا کہ اس صلاحیت کو ملک کے بڑے مسائل کے حل کی راہ میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی نیٹ ورک بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ اس معاشرے کا ایک حصہ عوامی گروہوں کی شکل میں مختلف محلوں کی سطح پر مستقل سرگرمیاں انجام دے سکے۔ زارع نے مزید کہا کہ جانفدا کا پہلا قومی آپریشن ایک ہزار عوامی قومی مزاحمتی بٹالین کی تربیت اور تنظیم ہے۔ اس وقت ایک ہزار بٹالین کی تربیت کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر دیا گیا ہے اور اگر آگے چل کر مزید گنجائش پیدا ہوئی تو اس تعداد میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان فورسز کی تربیت اور انہیں عملی طور پر استعمال کرنے کی ذمہ داری اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے پاس ہوگی۔

تربیت تین سطحوں پر مشتمل ہوگی:
زارع نے تربیتی کورسز کے مواد کے بارے میں کہا کہ مطلوبہ تربیت کو حالیہ جنگوں کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور اسے ابتدائی، تکمیلی اور اعلیٰ تین سطحوں پر فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تربیتی کورسز کے موضوعات میں جنگی حالات میں مقامی سلامتی اور عمومی تیاری، انٹیلی جنس نگرانی اور مشاہدہ، چھوٹے بغیر پائلٹ طیارے اڑانے کی تربیت، عوام کے لیے قابلِ استعمال بعض دفاعی آلات کے استعمال کی تربیت، اور جنگی حالات کے مطابق امدادی تربیت شامل ہے۔ جانفدا مہم کے ترجمان نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ ماضی کے تجربات اور جانفدائی و ایران دوستی کے جذبے کو برقرار رکھا جائے اور ساتھ ہی افراد کو موجودہ حالات کے مطابق ضروری تربیت بھی فراہم کی جائے۔

رضاکاروں کے لیے ایک روزہ یا ماڈیولر تربیت:
انہوں نے تربیتی کورسز کے انعقاد کے طریقۂ کار کے بارے میں کہا کہ رضاکاروں کی تربیت ایک روزہ بنیاد پر یا ماڈیولر کورسز کی صورت میں کرائی جا سکتی ہے۔ اس طرح جو افراد پورا ایک دن تربیتی مرکز میں موجود نہیں رہ سکتے، وہ کئی دنوں کے دوران چند گھنٹے کرکے اپنی تربیت مکمل کر سکتے ہیں۔ زارع نے مزید کہا کہ تربیتی کورسز کے انعقاد کی جگہ کا تعین ہر علاقے کے جغرافیائی حالات اور دستیاب سہولیات کے مطابق کیا جائے گا۔ تہران میں تربیت کا ایک حصہ مسلح افواج کے تربیتی مراکز اور دوسرا حصہ مخصوص مقامات اور میدانوں میں منعقد کیا جائے گا۔

خواتین بھی تربیتی کورسز میں شریک ہوں گی:
جانفدا مہم کے ترجمان نے اس منصوبے میں خواتین کی شرکت کے بارے میں کہا کہ خواتین بھی تربیتی پروگرام میں شریک ہوں گی اور ان کے لیے موزوں تربیتی کورسز کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے بارے میں آگاہی کے بعد متعدد خواتین نے تربیتی کورسز میں اپنی شرکت کے امکان کے حوالے سے سوالات کیے تھے، تاہم اس پروگرام میں خواتین کی شرکت کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔

90 منٹ میں ایک ہزار بٹالین کی رجسٹریشن مکمل:
زارع نے تربیتی کورسز کے لیے رجسٹریشن کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جانفدا ڈاٹ آئی آر ویب سائٹ گزشتہ روز شام 5 بجے عوام کے لیے کھولی گئی۔ ہمارا خیال تھا کہ گنجائش رات کے اختتام تک مکمل ہوگی، لیکن پہلے ہی چند منٹوں میں عوام کی جانب سے انتہائی وسیع پیمانے پر استقبال کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی 90 منٹ میں رجسٹریشن کی گنجائش مکمل ہو گئی اور اس کے بعد رجسٹریشن کرانے والے افراد کو انتظار کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ان افراد کی تربیت کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنے کے لیے مسلح افواج کے ساتھ مزید رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔ اگر ایک ہزار سے زیادہ بٹالین کی تربیت اور تنظیم کے لیے گنجائش پیدا ہوئی تو اس کے بارے میں اطلاع دی جائے گی۔

تہران سے تربیت کا آغاز:
جانفدا مہم کے ترجمان نے کہا کہ تربیتی پروگرام ہفتے کے روز تہران میں بتدریج شروع ہوگا اور اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں تک اسے وسعت دی جائے گی۔ زارع نے موبائل تربیتی ٹیموں‘‘ کی تشکیل کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ ٹیمیں قابلِ حمل آلات کے ساتھ ان اداروں، اسکولوں، رہائشی کمپلیکسوں اور دیگر مراکز میں جا سکتی ہیں جو تربیت کی درخواست کریں، اور وہیں تربیتی کورسز منعقد کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض مصروف میدانوں اور عوامی مقامات پر بھی تربیتی آلات نصب کیے جائیں گے تاکہ لوگ ان مراکز میں عملی تربیت حاصل کر سکیں۔

میڈیا کے لیے خصوصی بٹالین کی تشکیل:
زارع نے میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے ایک خصوصی بٹالین کی تشکیل کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے ایک میڈیا بٹالین مختص کی گئی ہے، جس کی تربیت اس شعبے سے وابستہ افراد کی ضروریات کے مطابق ہوگی اور اسے خصوصی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ جو افراد پہلے مرحلے میں رجسٹریشن نہیں کرا سکے، ان کے لیے نئی گنجائش پیدا ہونے کی صورت میں رجسٹریشن اور تنظیم کا امکان موجود ہوگا، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular