Fri Oct 09, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

یوکرین جنگ اور امریکی زوال کا اظہار

تحریر: محسن وفائی

حال ہی میں رہبر معظم انقلاب امام خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی سطحی حکومتی عہدیداران سے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: "امریکہ نے یوکرین جنگ کا آغاز کیا۔ یہ میرا دعوی ہے جس کیلئے کئی دلائل موجود ہیں اور دنیا میں بہت سے ماہرین کی رائے بھی یہی ہے۔ البتہ خود امریکی حکمران نہیں مانتے لیکن یوکرین جنگ انہوں نے ہی شروع کی ہے۔ اب یہ جنگ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک میں دوریاں پیدا ہونے کا باعث بن گئی ہے۔ چونکہ اس کا زیادہ نقصان یورپی ممالک کو ہو رہا ہے جبکہ اس کا فائدہ امریکہ اٹھا رہا ہے۔ لہذا ان میں دوریاں پیدا ہو گئی ہیں اور یہ امریکہ کی کمزوری ہے۔ میں نے کافی عرصہ پہلے کہا تھا کہ دنیا ایک اہم سیاسی تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ یعنی ورلڈ آرڈر تبدیل ہو رہا ہے۔ ہمارے مدمقابل محاذ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔”

ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے مزید فرمایا تھا: "عالمی سطح پر ہمارے اہم ترین مخالفین میں سے ایک امریکی حکومت ہے۔ اوباما کا امریکہ بش کے امریکہ سے زیادہ کمزور تھا، ٹرمپ کا امریکہ اوباما کے امریکہ سے زیادہ کمزور تھا اور اس شخص (جو بائیڈن) کا امریکہ ٹرمپ کے امریکہ سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ اس بات کی کیا دلیل ہے؟ امریکہ کے اندر پائی جانے والی خلیج، غاصب صیہونی رژیم کے بحران کو سیاسی طور پر حل کرنے میں ناکامی، ایران کے خلاف متحدہ عربی محاذ تشکیل دینے میں امریکہ کی ناکامی بلکہ اس کے برعکس عرب ممالک اور ایران میں تعلقات بہتر ہونا، اپنی مرضی کے مطابق ایران کے جوہری مسئلے کو حل کرنے میں امریکہ کی ناکامی وغیرہ۔” ان میں سے ہر دلیل کے بارے میں تفصیلی رپورٹ دی جا سکتی ہے لیکن تحریر حاضر میں ہم صرف یوکرین جنگ کے نتیجے میں عیاں ہوتے امریکی زوال کا جائزہ لیں گے۔

تقریباً دو سال پہلے یوکرین میں روس کی فوجی کاروائی شروع ہونے کے بعد اگرچہ امریکہ اور مغربی ممالک نے غیر متوقع طور پر اعلان کیا کہ وہ روس سے براہ راست ٹکر لینے سے گریز کریں گے لیکن عملی طور پر انہوں نے یوکرین میں روس کو فوجی شکست دینے کیلئے کسی اقدام سے دریغ نہیں کیا اور یوکرین کی سفارتی اور اخلاقی حمایت سے لے کر اس کی مالی اور فوجی امداد تک اس کی بھرپور مدد کی ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک میں روس کے خلاف اتحاد کا عروج گذشتہ برس اپریل میں پولینڈ کے شہر وارسا میں امریکی صدر جو بائیڈن کی تقریر تھی۔ انہوں نے یوکرین جنگ کو "خیر اور شر” کے درمیان جنگ قرار دیا اور دنیا کے تمام ممالک کو "شر” کے مقابلے میں متحد ہو جانے کی دعوت دی۔ امریکی صدر نے تمام مغربی ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے یوکرینی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "ہم آپ کے ساتھ ہیں۔”

یورپین کونسل آف فارن ریلیشنز نامی تھنک ٹینک نے یوکرین جنگ شروع ہونے کے چھ ماہ بعد دس یورپی ممالک میں ایک سروے انجام دیا۔ اس کے نتائج سے ظاہر ہوتا تھا کہ یوکرین جنگ کے بارے میں یورپی عوام کی رائے تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور اگرچہ وہ جنگ کے آغاز میں روس کی مکمل شکست تک یوکرینی فوج کی بھرپور مدد کے حامی تھے لیکن اب ان کی پہلی ترجیح جلد از جلد جنگ کا خاتمہ تھا۔ اس تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یورپی عوام اس وقت دو مخالف گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں: امن کا گروہ اور انصاف کا گروہ۔ امن کا گروہ فوری طور پر یوکرین جنگ بند ہو جانے کا حامی ہے جبکہ دوسرا گروہ کسی بھی قیمت پر روس کی مکمل شکست کا خواہاں ہے۔ چونکہ یوکرین جنگ کا طویل عرصے تک جاری رہنے کا قومی امکان پایا جاتا ہے لہذا یورپی یونین میں بھی گہری خلیج پیدا ہونے کا شدید خطرہ موجود ہے۔

یوکرین جنگ کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں خود یورپی ممالک میں شدید مہنگائی شروع ہو چکی ہے جس سے تنگ آ کر عوام نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے اور آئے دن یورپی ممالک میں شدید عوامی مظاہرے منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں معروف مجلے فائننشیل ٹائمز نے 37 ماہرین اقتصاد سے گفتگو انجام دی ہے۔ ان میں سے نوے فیصد ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور شدید مہنگائی اور انرجی کے بحران کے باعث یورپی ممالک مائنس 0.01 اقتصادی ترقی کا تجربہ کریں گے۔ دوسری طرف یورپ بھر میں امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے کے خلاف بھی احتجاج جاری ہے۔ یورپ میں نیا سال ایندھن کی شدید قلت، مہنگائی، انارکی، احتجاج اور ہڑتالوں سے شروع ہوا ہے۔

دوسری طرف بعض یورپی حکام نے بھی واضح طور پر یوکرین جنگ سے متعلق امریکہ کی مخالفت کرنا شروع کر دی ہے۔ مثال کے طور پر فرانسیسی صدر ایمونوئیل میکرون نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا ہے اور چین کی جانب سے یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے پیش کردہ 12 نکاتی راہ حل کی حمایت کی ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر امریکی زوال گذشتہ کچھ ماہ سے زیادہ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے لیکن ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے کئی سال پہلے اس کی پیش گوئی کر دی تھی۔ یہ کہنا بجا ہو گا کہ امریکہ کے زوال کی ایک اہم وجہ خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے اسلامی مزاحمت پر مبنی منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد ہے۔ اسلامی مزاحمت روز بروز طاقتور ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں خطے میں امریکی اثرورسوخ کم ہوتا گیا ہے اور آج ہم عالمی سطح پر بھی امریکی اثرورسوخ کے زوال کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular