
تحریر: محسن قرائتی
استاد محسن قرائتی ایک دانشور کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو مدینہ میں قبرِ رسول اکرمؐ کے گرد بہت بڑی تعداد میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر فکر میں ڈوب گیا اور دل ہی دل میں پیغمبرِ اکرمؐ سے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ ان لوگوں سے راضی ہیں؟ اس وقت اس کے ہاتھ میں قرآن تھا، عرض کی یا رسول اللہ! میں اس قرآن کو کھول رہا ہوں۔ آپ ان لوگوں سے خوش ہوں یا نا راض، جو بھی ہوں قرآن کی پہلی سطر میں کوئی ایسی آیت نکلے جس سے مجھے آپ کی مرضی معلوم ہو جائے۔ اس کے بعد اس نے قبرِ رسول اکرمؐ کے سرہانے قرآن کھولا تو دیکھا اس صفحہ کی پہلے آیت یہ تھی:
وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ مَہۡجُوۡرًا ‼️
ترجمہ: "اور رسول کہیں گے: اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو واقعی ترک کر دیا تھا۔”
(سورہ الفرقان آیت 30)
وہ کہتا ہے اس آیت نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں سمجھ گیا کہ روح پیغمبر آج ہم لوگوں کی حالت سے خوش نہیں ہے اور ہونا بھی نہیں چاہئے، کیونکہ جو مسلمان گناہ اور ظلم ہوتے دیکھتے رہیں اور سانس تک نہ لیں، وہ مسلمان جن کی نمازیں ایک مکھی تک کو وحشت زدہ نہ کر سکیں، وہ کسی معاشرے سے بُرائیاں کیسے ختم کر سکیں گے؟ یقینا ایسے افراد سے پیغمبر اکرمؐ کبھی راضی نہ ہوں گے۔”
*اللھم صل علی محمد وآل محمد وعجل فرجھم*
منقول


































