Fri Oct 09, 2026

آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی

روزانہ کی خبریں

9/11 کے بعد سب سے متنازعہ اعتراف

تحریر: سید محمد حسین راجی

جنرل ویزلی کلارک نے 2007ء میں انکشاف کیا تھا کہ پینٹاگون کا نائن الیون کے بعد پانچ سال کے اندر سات ممالک (عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، ایران) پر حملہ کرنے کا منصوبہ تھا۔ اس متنازع انکشاف نے امریکی خارجہ پالیسی کے حقیقی اہداف پر سوالات کھڑے کر دیئے۔ ویزلی کلارک، امریکی فوج کے جنرل اور کمانڈر انچیف رہے ہیں۔ جنرل ویزلی کلارک، ریاستہائے متحدہ کی فوج کے معروف ریٹائرڈ کمانڈر اور یورپ میں نیٹو افواج کی قیادت کے لیے مشہور ہیں (1997-2000)۔ انہوں نے 1966ء میں ویسٹ پوائنٹ سے گریجویشن کیا اور آکسفورڈ میں روڈس اسکالرشپ پر فلسفہ، سیاست اور معاشیات کی تعلیم حاصل کی۔

اپنی 34 سالہ سروس کے دوران، کلارک نے سلور اسٹار جیسے اعزازات حاصل کیے اور کوسوو جنگ (1999ء) میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد، کلارک ایک مصنف بن گیا، جس نے "لانچنگ نیو وارز” (2001ء) اور "وننگ نیو وارز” (2003ء) جیسی کتابوں میں 9/11 کے بعد کی امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ہے۔ "اگلی جنگ کا انتظار نہ کریں” (2014ء) نامی کتاب میں، اس نے دلیل دی ہے کہ امریکہ سرد جنگ کے بعد اپنی عظیم حکمت عملی کھو چکا ہے اور اب جنگ کو آخری حربہ ہونا چاہیئے۔

ویزلی کلارک کا متنازعہ انکشاف
2007ء میں جنرل ویزلی کلارک نے پروگرام "ڈیموکریسی ناؤ” کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنا ایک انتہائی متنازع انکشاف کیا۔ اس نے انکشاف کیا کہ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے فوراً بعد پینٹاگون میں ایک میٹنگ کے دوران امریکی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل نے انہیں ایک خفیہ میمو دکھایا۔ میمو میں ایک منصوبہ تھا، جس میں امریکہ نے پانچ سالوں میں سات ممالک پر حملہ کرکے حکومتوں کا تختہ الٹنے کا ارادہ کیا تھا۔ یہ ممالک عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور ایران تھے۔ کلارک نے کہا کہ یہ منصوبہ اس وقت کے وزیر دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ کے دفتر سے شروع ہوا اور مشرق وسطیٰ کو نئی شکل دینے کے لیے ایک عظیم نو قدامت پسند حکمت عملی کا حصہ تھا۔

کلارک نے انٹرویو میں وضاحت کی: "9/11 کے تقریباً دس دن بعد، میں پینٹاگون گیا اور ایک سینیئر افسر سے بات کی، اس نے کہا کہ عراق کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ وہ نہیں جانتا، شاید اس لیے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ اس تمام افرادی قوت اور آلات کا کیا کرنا ہے! پانچ سال سے زیادہ کے عرصے میں سات ممالک پر حملہ کرنا تھا۔ پہلے عراق، پھر شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور آخر میں ایران۔ یہ انکشاف، جسے بعد میں Winning the Modern Wars (ء2003) نامی کتاب میں بیان کیا گیا۔ اس کتاب میں مصنف نے امریکی خارجہ پالیسی کے محرکات کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے۔

کلارک نے اس منصوبے کو نو قدامت پسندوں کے جارحانہ اندازِ فکر کی علامت کے طور پر دیکھا، جن کا خیال تھا کہ امریکی عالمی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے فوجی طاقت کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے اس حکمت عملی کو خطرناک اور عقلی جواز کے بغیر قرار دیا، کیونکہ ان ممالک کو 11 ستمبر کے حملوں سے منسلک کرنے کے کوئی واضح ثبوت نہیں ملے تھے۔ یہ بیانات میڈیا میں تیزی سے گونجنے لگے اور اس نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں امریکی مداخلت کے بارے میں ایک وسیع بحث کو جنم دیا، یہ ایک ایسا موضوع ہے، جو اب بھی سیاسی تجزیہ کا موضوع بنا ہوا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular