
Oplus_16908288
تحریر: ایس طالب
شہید رہبر کی جدائی اگرچہ دلوں پر گہرا داغ ہے، لیکن اس عظیم شہید رابع کے خون کی تاثیر اس سال اربعین میں روز روشن کی طرح نمایاں ہے۔ شہید رہبر کی ہمیشہ یہ خواہش رہی تھی کہ امت مسلمہ میں اتحاد اور ہمدلی پیدا ہو اور سب مل کر مظلوموں کی حمایت کریں اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح خدا نے اسی عراقی عوام کے دل شہید رہبر اور مقاومت کی طرف مائل کر دیئے جنہوں نے آٹھ سال اس ملک سے جنگ کی تھی۔ لاکھوں عراقی عوام نے نجف اور کربلا میں تشییع میں شرکت کرکے اس بات کا ثبوت دیا کہ عوام کا رہبری سے تعلق عقیدے اور شناخت میں جڑا ہے اور جغرافیائی سرحدیں عاشقانِ اہلِ بیتؑ کے دلوں کو جدا نہیں کر سکتیں۔
پھر ہم سب ان دنوں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح پورا عراق ابا عبداللہ علیہ السلام کے عزاداروں (جس میں غالبا ایرانی ہیں) کی خدمت میں کھڑا ہے اور زیادہ تر مواکب میں شہید رہبر کی تصاویر اور ان کی خونخواہی کا مطالبہ نظر آرہا ہے۔ دشمن کی ہمیشہ چال خوف اور دہشت گردی کو استعمال کرکے سامنے والے کو ڈرانا ہے لیکن یہ اس کا احمقانہ طرز فکر کم از کم اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں پر اُلٹا اثر کرتا ہے اور گزشتہ دنوں سعودی امریکی اتحاد کے عراق پر حملوں اور حشد الشعبی اور پاسداران انقلاب کے جوانوں کی شہادت نے نہ صرف ان دونوں اقوام میں کوئی دراڑ نہیں ڈالی، بلکہ ایرانی اور عراقی خون کے باہمی امتزاج نے دونوں قوموں کے تاریخی رشتے اور ظلم اور ظالم کے خلاف مشترکہ مفادات کو مزید مستحکم کیا ہے۔
شہید رہبر نے ایک موقع پر اربعین کے اس عظیم اجتماع کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ شیعہ و سنی، عرب و فارس کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مضبوط کرنے کا باعث ہے اور اس کے سبب دشمن کی تفرقہ انگیز سازشوں کو ناکامی ملے گی تو یہ سب انتہائی واضح انداز میں نظر آرہا ہے۔ پاکستان کے اہل بیت علیہم السلام سے محبت کرنے والے مسلمانوں کا یہ وظیفہ بنتا ہے کہ آپس میں اتحاد اور اتفاق کی فضا کو فروغ دیں اور ظالم وحشی استکبار کے سامنے سب مل کر جدوجہد کریں جیسے رہبر شہید نے آخری دم تک اپنے جد کی پیروی کرتے ہوئے زمانے کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اپنے خاندان کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔ کیا یہ قربانی جس کی عظمت کا دشمن بھی معترف ہورہا ہے ہمارے متعصب پردوں کو ہٹانے کے لئے کافی نہیں۔


































