
تحریر: محمد عدنان
اتوار 26 فروری 2023ء کے دن غاصب صیہونی فوج کی پشت پناہی میں سینکڑوں مسلح یہودی آبادکاروں نے نابلس کے اطراف میں واقع چند فلسطینی دیہاتوں پر دھاوا بول دیا۔ یہ دہشت گرد یہودی اسلحہ، چاقو اور دیگر آہنی ہتھیاروں سے لیس تھے اور انہوں نے نابلس کے نواح میں واقع چار دیہاتوں میں عام فلسطینی شہریوں کو بربریت کا نتیجہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک فلسطین شہید اور 400 سے زائد فلسطینی زخمی ہو گئے۔ مزید برآں، یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کی 100 سے زیادہ گاڑیوں اور تقریباً 75 گھروں کو بھی نذر آتش کر ڈالا۔ یہ مجرمانہ اقدام صیہونی رژیم کی انتہاپسند کابینہ میں شامل وزرا کی ایما پر انجام پایا ہے۔ انتہاپسند صیہونی کابینہ نے یہودی آبادکاروں کو فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کی ترغیب دلائی تھی۔ دوسری طرف صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو فدائی حملہ کرنے والوں کو سزائے موت دیے جانے کا قانون تیار کر رہا ہے۔
گذشتہ چار دنوں میں نابلس کے اردگرد دیہاتوں میں یہودی آبادکاروں کا یہ دوسرا مجرمانہ اقدام ہے جو فلسطینی شہریوں کے خلاف انجام پایا ہے۔ صیہونیوں کی حالیہ بربریت کا مرکز نابلس کے قریب واقع قصبہ الحوارہ تھا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اتوار کی سہ پہر غاصب صیہونیوں کے خلاف دو فدائی حملے انجام پائے تھے جن میں دو صیہونی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے چند گھنٹے بعد ہی سینکڑوں کی تعداد میں مختلف قسم کے ہتھیاروں سے لیس یہودی آبادکاروں نے صیہونی فوج کی پشت پناہی میں نابلس شہر کے اردگرد دیہاتوں پر حملہ کر دیا۔ اس بربریت میں شہید ہونے والے 37 سالہ فلسطینی جوان کا نام حمداللہ محمود اقطش ہے۔ غاصب صیہونیوں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں اور گھروں پر بھی رحم نہیں کیا اور راستہ میں جو بھی آیا اسے جلاتے چلے گئے۔
اس علاقے کے رہائشی ایک فلسطینی شہری نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے والے یہودی آبادکاروں کی تعداد 400 سے 500 کے درمیان تھی۔ وہ حوارہ قصبے میں داخل ہوئے اور جو کچھ بھی دکھائی دیا اسے آگ لگا دی۔ جلنے والی چیزوں میں گاڑیاں، گھر، دکانیں اور حتی درخت بھی شامل ہیں۔ اس عینی شاہد کے مطابق حوارہ گاوں میں وسیع مالی نقصان ہوا ہے۔ فلسطین کی ہلال احمر کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس حملے میں صرف حوارہ گاوں میں سو کے قریب فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والوں کو چاقو یا آہنی اشیاء سے مارا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 95 افراد آنسو گیس سے متاثر ہوئے ہیں۔ صیہونی فوج نے طبی امداد فراہم کرنے والی ٹیموں کو بھی روک دیا اور تین ایمبولینس گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس بربریت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں اسے اتوار کی سہ پہر فدائی حملہ آور کی تلاش کی کوشش قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسے تلاش کر کے اس کے خلاف عدالتی کاروائی کی جائے گی۔ حال ہی میں نیتن یاہو نے ایک قانونی مسودے پر دستخط کئے ہیں جس کی رو سے فدائی حملہ کرنے والے کو سزائے موت دی جائے گی۔ یہ مسودہ انتہاپسند وزیر داخلہ ایتمار بن گویر نے پیش کیا ہے۔ صیہونی اخبار یدیعوت آحارنوٹ نے نابلس کے نواح میں فلسطینی دیہاتوں پر حملہ کرنے والے یہودی آبادکاروں کی تعداد 400 بتائی ہے۔ اخبار نے ان یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی گاڑیوں اور گھروں کو نذر آتش کئے جانے کو "احتجاجی مظاہرے” کہا ہے۔ الحوارہ اور دیگر دیہاتوں میں یہ شدت پسندی صیہونی کابینہ اور کینسٹ میں موجود انتہاپسند عناصر کی خوشی کا باعث بنی ہے۔
صیہونی کینسٹ کے رکن زویکا فوگل نے صیہونی فوج کے ریڈیو سے بات چیت کرتے ہوئے پورے حوارہ گاوں کا محاصرہ کر کے اسے آگ لگا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا: "حوارہ کو مکمل طور پر جل کر بند ہو جانا چاہئے کیونکہ صرف اسی صورت فلسطینیوں کو مزاحمتی کاروائیوں سے روکا جا سکتا ہے۔” فوگل جو نسل پرست ہونے میں معروف ہے، نے مزید لکھا: "اسرائیلی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینا ضروری ہے۔” صیہونی وزیر اقتصاد اسموتریچ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا: "امن اور استحکام صرف اس صورت میں پیدا ہو سکتا ہے جب اسرائیلی فوج دہشت گرد شہروں اور ان کے باسیوں کو بے رحم طریقے سے ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تباہ کر دے اور انہیں یہ پیغام دے کہ ہم پاگل ہو چکے ہیں۔”
فلسطین میں اسلامی مزاحمتی گروہوں نے اس بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے پر زور دیا ہے۔ حماس کے سیاسی رہنما صالح العاروری نے فلسطینی قوم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیام کرے اور اس بربریت میں شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں کا بدلہ لے۔ انہوں نے کہا: "آج اسلحہ کی عزت کا دن ہے اور صیہونی قبضے اور بدمعاشی کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمارے سامنے مزاحمت کا راستہ ہے۔ ہم مزاحمت کے ذریعے ہی اپنے غصب شدہ حقوق اور مقدس مقامات خاص طور پر مسجد اقصی کی حفاظت کر سکتے ہیں۔” شہدائے الاقصی بریگیڈز نے صیہونی دشمن اور یہودی آبادکاروں کا مقابلہ کرنے کیلئے فوری طور پر منظم ہو جانے کی کال دی ہے۔ اسلامک جہاد فلسطین کے رہنما داود شہاب نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی مزاحمت غاصب صیہونیوں کے خلاف مسلح جدوجہد جاری رکھے گی۔


































