
بیشک الٰہی نصرت کے حصول کے لیے بڑی بھاری قربانیوں، سخت جنگوں اور تلخ کشمکش کی ضرورت ہوتی ہے۔
جو شخص سچے دل سے حکومتِ مہدویہ کی سحر کے طلوع ہونے کا انتظار کر رہا ہے، اسے چاہیے کہ وہ خود کو ان قربانیوں اور فداکاریوں کے لیے تیار کر لے۔
اور کسی کو یہ وہم نہیں ہونا چاہیے کہ امام حجت (عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) تنہا — اور خارق العادہ طریقے پر — فاسد حالات کی اصلاح فرما دیں گے، اور لوگ فتح کی دسترخوان پر بیٹھ جائیں گے اور مہدوی رحمت و شفقت کا ثمرہ چکھیں گے، بغیر اس کے کہ انہوں نے راہِ خدا میں کوئی کوشش اور جہد کی ہو۔
یہ محض ایک وہم ہے، بلکہ یہ ایک باطل گمان ہے، بالکل اُسی طرح جیسا کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کا حال تھا، جو فرعون کے ظلم و جبر سے آزاد ہونا چاہتا تھا، لیکن بغیر کسی مشقت اور کوشش کے۔ وہ نصرت (فتح) کو بغیر قیمت کے چاہتے تھے، اور انہوں نے آرام طلب کیا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت موسیٰ (ع) سے کہا:
﴿فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ﴾
” آپ اور آپ کا رب جا کر جنگ کریں ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔ "(سورہ مائدہ، آیت 24)
#مفسر حکیم آیت اللہ العظمی عبداللہ جوادی عاملی


































