
تحریر: یداللہ جوانی جونی
ایران اور انقلابیوں کے دشمن وہ ہیں، جو ایرانیوں اور انقلابیوں کے ہتھیار ڈالنے سے کم پر بھی مطمئن نہیں ہوں گے۔ یہ دشمنی اسلامی انقلاب سے پہلے شروع ہوئی تھی، لیکن انقلاب کے بعد دشمنی میں شدت آئی۔ بنیادی طور پر اسلامی انقلاب کی ایک وجہ مغرب بالخصوص امریکیوں کی دشمنی پر ایرانی عوام کا ردعمل تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی ترکیہ میں جلاوطنی، ایران میں کیپچولیشن کے قانون اور امریکی مداخلت کے خلاف ان کی سخت تقریر کی وجہ سے ہوئی تھی۔ یہ جلاوطنی، ملک کی آزادی کے دفاع کی وجہ سے تھی؛ اس لیے ایران کے ساتھ دشمنی کسی نہ کسی وجہ سے پرانی تاریخ رکھتی ہے۔ اسلامی انقلاب کے ساتھ امام خمینی (رح) نے ایرانی زوال کے دور کا خاتمہ کیا اور ایران کو استکباری طاقتوں بالخصوص امریکیوں کے چنگل سے نجات دلائی اور اسے آزادی، خود مختاری، ترقی اور قومی وقار کے تحفظ کی راہ پر گامزن کیا۔ دنیا کی استکباری طاقتیں 47 سال سے ایران کو انقلاب اسلامی سے پہلے کے دور میں لوٹانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے پہلے دن ٹرمپ نے جنگ کے تزویراتی اہداف کو تیزی سے حاصل کرنے کا تصور کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کیا کہ ایران کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ بلاشبہ ٹرمپ اس جنگ میں جس چیز کا اظہار کرنے میں ناکام رہے، وہ گذشتہ 47 سالوں میں تمام امریکی صدور کی ایرانی قوم کے تئیں دلی خواہش تھی اور یہ سب عظیم ایرانی قوم کے خلاف اپنی بہت سی کوششوں کے باوجود ناکام رہے ہیں۔ مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے بعد، دشمنوں نے، ایرانی قوم کے طاقتور دفاع کو دیکھتے ہوئے، ایک بار پھر محسوس کیا کہ وہ صرف فوجی کارروائی سے ایران اور ایرانیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے ایک بار پھر اپنی تمام تر طاقت اور صلاحیتوں کے ساتھ ہائبرڈ جنگ پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ ایک جنگ جو علمی جنگ پر مرکوز ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جمعرات 10 دسمبر کو حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کی تقریب میں اپنے بیانات میں ایران کی عظیم قوم کے ساتھ دشمنوں کے موجودہ میدان جنگ کا خاکہ یوں بیان کیا: "دشمن سمجھ گیا کہ دباؤ اور فوجی ذرائع سے اس سرزمین اور حکومت و نظام پر قبضہ کرنا ممکن نہیں، وہ سمجھ گیا کہ اگر اسے قبضہ کرنا ہے، مداخلت کرنا ہے یا کامیابی حاصل کرنا ہے تو اسے دل بدلنا ہوں گے، ذہن اور خیالات کو بدلنا ہوگا۔” امام خامنہ ای نے اپنے بیانات کو جاری رکھتے ہوئے دشمنوں کی علمی و ادراکی جنگ کا حوالہ دیا اور واضح کیا کہ آج خطرہ اس ادراکی اور نفسیاتی جنگ کا ہے۔ رہبر انقلاب نے کہا کہ آج، ایک فوجی تنازعہ سے آگے، ہم ایک پروپیگنڈے اور میڈیا کے تنازع کے مرکز میں داخل ہوچکے ہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اس تنازعہ اور نفسیاتی جنگ میں دشمنوں کے مقاصد کیا ہیں۔؟
حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات کے چند اہم اور بنیادی اہداف درج ذیل ہیں:
1۔ اسلامی تعلیم، شیعہ نظریات اور انقلابی تعلیم و تربیت میں تبدیلیاں پیدا کرنا؛
2۔ انقلابی تصورات کو پھیلانے والے کاموں کی تباہی؛
3۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد سے دور کرنا
4۔ ایرانی قوم کی ذاتی، مذہبی، تاریخی اور ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنا۔
ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے دشمنوں کی حکمت عملی یہ ہے کہ ہر ایرانی کے دل و دماغ پر قبضہ کرنے کے لیے ذرائع ابلاغ اور فنی آلات کو استعمال کیا جائے۔ اس سلسلے میں رہبر معظم نے اپنے بیانات کو جاری رکھتے ہوئے دشمن کے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: "وہ اربوں خرچ کرتے ہیں، وہ اظہار نہیں کرتے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ ادیب، فنکار، کتاب لکھنے والے، ناول نگار، ہالی ووڈ وغیرہ سب کو استعمال کر رہے ہیں، وہ نوجوان ایرانیوں کے ذہنوں کو بدلنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں۔”
یہ بالکل واضح ہے کہ ایسے دشمنوں کے خلاف مزاحمت، ثابت قدمی اور لڑنا چاہیئے۔ یہ مزاحمت اور ثابت قدمی جہاد کے مترادف ہے۔ دشمن کی جنگ ہائبرڈ جنگ ہے اور دشمن کے خلاف جہاد بھی ہائبرڈ جہاد ہونا چاہیئے۔ تاہم، یہ واضح رہے کہ دشمنوں کی اس جنگ کا مرکز علمی و ٹیکنالوجی کی جنگ ہے۔ علمی جنگ کے خلاف اہم، فیصلہ کن اور موثر حکمت عملی تبیین یا وضاحت کا جہاد ہے۔ تبئین کے جہاد اور اس کی تاثیر کے تقاضوں سے واقف ہونا ضروری ہے۔ معلوم ہونا چاہیئے کہ اس جہاد کی بنیاد فریق مقابل کو دلائل اور منطق سے قائل کرنا ہے۔ دشمن کے پروپیگنڈے کے زیر اثر ایرانی نوجوان کو جو دشمن کے پروپیگنڈہ محاصرے میں پھنسا ہوا ہے، اس نوجوان کو نہ صرف خود اپنے آپ کو دشمن کے اس جال اور گرفت سے آزاد کرانا ہے بلکہ دوسروں کی نجات کا سامان مہیا کرنا ہے۔ اسے خود بھی درک کرنا ہے اور دوسروں کو بھی بتانا ہے کہ اس کا حقیقی دوست اور حقیقی دشمن کون ہے۔ شناخت اور ادراک کے بعد وہ مزاحمت بھی کرے گا، ثابت قدم بھی رہے گا اور اس کے خلاف قیام بھی کرے گا، ان شاء اللہ۔


































