
رپورٹ: سید عدیل زیدی
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے گذشتہ روز اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان نے افغانستان میں داعش کے خلاف کارروائی میں امریکا کی مدد کرنے کے لیے حامی بھرلی ہے، پینٹاگون کی لیک ہونے والی ایک دستاویز میں خبردار کیا گیا تھا کہ داعش امریکا، یورپ اور ایشیائی ممالک میں حملوں کے لیے ایک بار پھر افغانستان کی سرزمین استعمال کرسکتی ہے، یہ دہشتگرد تنظیم افغانستان میں منظم ہوکر امریکا اور دیگر ممالک کے گرجا گھروں، سفارت خانوں، کاروباری مراکز اور ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کو نشانہ بناسکتی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دہشتگرد تنظیم آئی ایس آئی ایس نے آج تک امریکی، یورپی و صیہونی مفادات کی بجائے امت مسلمہ کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس لیک دستاویز میں سکیورٹی خدشات پر امریکی وزارت دفاع کے ایک اہم اور سینیئر عہدیدار سے گفتگو کی، جس کا کہنا تھا کہ امریکا طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے افغانستان میں داعش پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اخبار کیمطابق امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان اور امریکا کا مشترکہ ہدف ہے، طالبان خود بھی داعش کو اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور تازہ سکیورٹی خدشات کے تناظر میں طالبان حکومت نے داعش کے خلاف کریک ڈاؤن آپریشن میں امریکا کی مدد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی دفاعی حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو مزید بتایا کہ افغانستان میں اگست 2021ء کو قائم ہونے والی طالبان حکومت داعش کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے، جس پر اسے داعش کی جانب حملوں کا بھی سامنا ہے، میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ طالبان کو سونپ دی ہے، لیکن اس بات کو تسلیم کرنے میں کسی کو عار نہیں ہونی چاہیئے کہ طالبان حکومت نے داعش پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کی لیک ہونے والی اس دستاویز کی تصدیق سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اس دستاویز پر ٹاپ سیکریٹ کا لیبل اور محکمہ دفاع کا لوگو لگا کر سر بمہر کر دیا۔
موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ لیک ہونے والی دستاویزات میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد سیل دوبارہ زندہ ہوسکتے ہیں۔ امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ امریکا اپنی افواج کو کہیں مستقل طور پر تعینات کیے بغیر بھی دہشتگردوں کے خلاف منطقی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کو زیر کیا جا چکا ہے، لیک دستاویز پر واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتی۔ طالبان رہنماء کا کہنا تھا کہ اس طرح کی رپورٹ ذاتی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن یہ حققیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ داعش افغانستان میں وجود نہیں رکھتی، جیسے کبھی دورِ تسلط (امریکی نواز حکومت) میں ہوا کرتی تھی۔
طالبان اور امریکی حکام کی جانب سے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ پر تردید سامنے آنا فطری تھا، کیونکہ دونوں فریق دو دہائیوں تک مسلسل ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار رہے ہیں، لہذا ایسے میں داعش کے معاملہ پر دونوں کا ’’اعلانیہ اتحاد‘‘ ایک دوسرے کے اصولی موقف کی بظاہر نفی کرتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ خطہ سے انخلاء کے بعد سے امریکی اتنظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ میں کافی بے چینی پائی جا رہی ہے، چین، روس، ایران سمیت خطہ کے دیگر ممالک کے مابین بڑھتے تعلقات اور عالمی طاقت کے توازن کی یہاں منتقلی واشنگٹن کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ ایسے میں امریکہ کی حتی الامکان کوشش ہوگی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے اس خطہ میں اس کی موجودگی رہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ شام و عراق میں شکست کے بعد داعش کے دہشتگردوں نے اپنی توجہ افغانستان منتقل کی، کیونکہ اس موقع پر امریکہ افغان جنگ سے اپنی جان چھڑانا چاہ رہا تھا۔
اپنی متوقع واپسی کیلئے داعش کو افغانستان میں لانا اس کیلئے ضروری تھا، افغان طالبان بھی داعش کو اپنے ملک اور اقتدار کیلئے نہ صرف خطرہ سمجھتے ہیں بلکہ انہوں نے اس عالمی دہشتگرد تنظیم کیخلاف کافی کامیاب عسکری کارروائیاں بھی کی ہیں، ایسے میں اگر افغان سرزمین پر داعش کی فعالیت بڑھتی ہے تو واشنگٹن انتظامیہ بش دور حکومت کی طرح القاعدہ کیخلاف کارروائی کے بہانے کی طرز پر ایک مرتبہ پھر افغانستان پر یلغار کرسکتی ہے۔ یاد رہے کہ طالبان حکام بھی ماضی میں داعش کو امریکی پیداوار قرار دے چکے ہیں، تاہم واشنگٹن پوسٹ کو موصولہ مبینہ دستاویز طالبان کے اصولی موقف کے منافی ہے۔ اگر امریکہ پابندیوں کے خاتمے کا لالچ دیکر طالبان کو داعش کیخلاف کسی ممکنہ عسکری کارروائی کیلئے راضی کر لیتا ہے تو یہ صورتحال نہ صرف افغانستان بلکہ خطہ کیلئے انتہائی نقصان دہ ہوگی، کیونکہ علاقائی طاقتیں آہستہ آہستہ امریکہ مخالف نظریہ پر یکجا ہوتی نظر آرہی ہیں اور یہ صورتحال یقیناً واشنگٹن انتظامیہ کیلئے تاریخی طور پر پریشان کن ہے۔


































