
بہن بھائی کی لڑائی اگر ایک معمول حد تک ہو تو ان کی نشوونما اور "اپنا دفاع کرنا” سیکھنے کا حصہ ہے۔ پریشانی کی بات نہیں۔
لیکن اگر مارنا معمول سے باہر ہے تو اس رویے کو روکنے کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:
. پُرسکون رہیں اور فوری ردعمل دیں
جب بچہ کسی کو مارتا ہے تو فوراً نرمی سے لیکن مضبوط لہجے میں کہیں:
"ہم کسی کو نہیں مارتے۔ مارنے سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔”
غصے یا سختی سے ردِعمل دینے کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ بچہ سیکھ سکے کہ مسئلے کو پُرسکون انداز میں حل کرنا ضروری ہے۔
. وجہ سمجھنے کی کوشش کریں
بچے کو مارنے پر ڈانٹنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ ممکنہ وجوہات:
غصہ یا Frustration
توجہ حاصل کرنے کی کوشش
دوسروں کی نقل کرنا
اپنی بات واضح نہ کر پانے کی بے بسی
. مثبت رویے کی حوصلہ افزائی کریں
جب بچہ دوسروں سے اچھا برتاؤ کرے تو اس کی تعریف کریں:
"تم نے بہت اچھا کیا کہ اپنی بات نرمی سے کہی!”
اس سے بچہ سیکھے گا کہ مثبت رویہ اپنانے سے بھی اسے توجہ اور تعریف مل سکتی ہے۔
. متبادل طریقے سکھائیں
بچے کو سکھائیں کہ غصہ یا Frustration کا اظہار کیسے کیا جائے، مثلاً:
گہری سانس لینا
الفاظ میں اپنی بات کہنا، جیسے "مجھے یہ اچھا نہیں لگا”
. کسی کو نقصان پہنچانے کے نتائج بتائیں
بچے کو نرمی سے سمجھائیں کہ دوسروں کو مارنے کے کیا اثرات ہوتے ہیں، جیسے:
"جب تم مارتے ہو تو دوسرے ناراض ہو جاتے ہیں اور کھیلنا بند کر دیتے ہیں۔”
اس سے وہ سیکھے گا کہ اس کے رویے کا اثر دوسروں پر کیسے پڑتا ہے۔
. بار بار سمجھانے کے لیے تیار رہیں
بچوں کو عادتیں بدلنے میں وقت لگتا ہے، اس لیے صبر رکھیں اور بار بار نرمی سے سمجھائیں۔ اگر بچہ بار بار مار رہا ہے تو اسے کچھ دیر کے لیے الگ بٹھائیں (Time-out)، تاکہ وہ پرسکون ہو سکے اور سوچ سکے کہ اس نے غلط کیا ہے۔
. اپنے رویے کا بھی جائزہ لیں
اگر گھر میں کوئی دوسروں پر غصہ نکالتا ہے یا مارپیٹ کرتا ہے، تو بچہ بھی وہی سیکھے گا۔ کوشش کریں کہ گھر میں پرامن اور مثبت ماحول ہو۔
. بچوں کی توانائی مثبت طریقے سے نکالیں
بہت سے بچے زیادہ توانائی کی وجہ سے بھی چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ انہیں کھیل کود، ورزش، اور تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رکھیں تاکہ ان کی توانائی مثبت طریقے سے استعمال ہو۔


































