Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

امریکا میں ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد احتجاج میں شدت

نیویارک (نیٹ نیوز) امریکا میں ایک اور سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد نسل پرستی کے خلاف احتجاج میں شدت آگئی۔ پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام جارج فلائیڈ کے بعد دو روز قبل 27 برس کے ریشارڈ بروکس کو بھی پولیس نے اٹلانٹا میں گولی مار کر ہلاک کردیا. پولیس کے مطابق انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ ایک شخص ریسٹورینٹ کے ڈرائیو تھرو حصے میں پارک کی گئی گاڑی میں سو رہا ہے جس کی وجہ سے دیگر کسٹمر اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔
پولیس نے دعویٰ کیا تھاکہ سیاہ فام شخص نے گرفتاری کے دوران مزاحمت کی اور مبینہ طور پر پولیس کا ٹیزر لے کر بھاگنے کی کوشش کی اور اس دوران دو پولیس اہلکاروں میں سے ایک نے سیاہ فام شخص پر گولی چلا دی جس سے وہ ہلاک ہوگیا تاہم گولی چلانے والے پولیس اہلکار گیرٹ روفیل کو برطرف کردیا گیا۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجیلس میں Black Lives Matter کے تحت پر امن مارچ اور احتجاج کیاگیا جب کہ اسی طرح دیگر شہروں میں بھی مظاہرین نے سیاہ فاموں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے پر آواز بلند کی۔
دوسری جانب نسل پرستی کے خلاف برطانیہ کے شہر لندن اور لیڈز میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے۔
نیوزی لینڈ کے شہر ولنگٹن اور آکلینڈ میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرین نےنسل پرستی کے خلاف نعرے بازی کی۔
ادھر فرانس کے صدر میکرون کا کہنا ہے کہ وہ متنازع عوامی شخصیات کے مجسمے ہٹانے یا تاریخ مٹانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن انہوں نے واضح کیاکہ فرانس میں نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائےگا بلکہ مساوات کے لیے نئے فیصلے کیے جائیں گے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Most Popular