
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
بحرین 2011ء سے اسلامی بیداری کی لہر میں شامل ہے۔ اس ملک کے عوام نے آل خلیفہ کے غاصبانہ اور آمرانہ اقدامات کے خلاف احتجاج کیا، لیکن ابھی تک اس عمل کا نتیجہ آزادی پسندوں کی گرفتاری، قید، تشدد اور پھانسی کی صورت میں نکلا ہے۔ یہ حریت پسند اب بھی میدان جنگ میں موجود ہیں۔ آل خلیفہ حکومت نے سینکڑوں لوگوں کی شہریت بھی چھین لی ہے۔ بحرین میں نظریاتی اور سیاسی قیدیوں پر دباؤ کے تسلسل میں بحرین کے انسانی حقوق کے کارکنوں میں سے ایک "إبتسام الصائغ” نے انکشاف کیا ہے کہ مرکزی جیل "جو” کی انتظامیہ دانستہ طور پر گرفتار قیدیوں کی توہین کرتی ہے اور اپوزیشن شخصیات کے علاج کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں انکشاف کیا کہ جیل انتظامیہ نے مختلف قومیتوں کے قیدیوں کو مختلف مجرمانہ سزاؤں کے ساتھ ایک جگہ اکٹھا کر دیا۔ ان قیدیوں کے جرائم، رسم و رواج، روایات اور مذاہب مختلف ہیں۔ قاتلوں اور ڈاکؤوں کو سیاسی قیدیوں کے ساتھ ایک جگہ رکھا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بحرین میں سیاسی اور مذہبی قیدیوں کو دباؤ اور انسانی حقوق کے خلاف رویئے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بحرین میں سیاسی قیدیوں کے حقوق کی پامالی کا تفصیلی ریکارڈ ہے اور گذشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کی تحریک آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی قیدیوں پر دباؤ دوگنا ہوگیا ہے۔
بحرین سیاسی جیلوں کا ریکارڈ توڑنے والا ملک ہے
بحرین میں عرب ممالک میں سب سے زیادہ سیاسی قیدی ہیں اور گذشتہ سال بحرین ہیومن رائٹس سینٹر نے اعلان کیا تھا کہ حالیہ برسوں میں بحرین وہ عرب ملک بن گیا ہے، جہاں سیاسی قیدیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ بحرین کے انسانی حقوق کے مرکز نے اپنی ایک رپورٹ میں تاکید کی ہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران آل خلیفہ کی جیلوں کی مخدوش حالت کے بارے میں بہت سی رپورٹیں شائع ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے جیلوں کے حالات بہتر کرنے اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ تشدد اور ناروا سلوک بند کرنے کی کئی بار درخواست کی ہے۔ انسانی حقوق کی رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں بحرین نے سیاسی نظریات کی وجہ سے تقریباً 15000 افراد کو حراست میں لیا، اس طرح حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ قیدیوں کے ساتھ بحرین پہلا عرب ملک بن گیا، جہاں تقریباً 4500 سیاسی قیدی متعدد مشکلات کا شکار ہیں۔
سیاسی قیدیوں پر تشدد
بحرین میں سیاسی قیدیوں کو تشدد اور ایذا رسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور آل خلیفہ حکومت کسی بھی اختلافی آواز کو حراست، تشدد اور پھانسی کے ذریعے خاموش کر دیتی ہے۔ بحرینی جیلوں کے نامساعد حالات، قیدیوں میں بیماری کے پھیلاؤ اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہ کرنے اور گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی وجہ سے ان میں سے کئی افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔ نومبر 2015ء میں "جو” نامی جیل میں تقریباً 2500 قیدی رجسٹرڈ تھے، جن کے لئے صرف 2 ڈاکٹر تھے، جو دو شفٹوں میں آتے تھے۔ انسانی حقوق کے ایک مرکز نے شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کے تحت قیدیوں کے اعترافی بیان کا بھی ذکر کیا ہے۔ گذشتہ سال کے موسم گرما میں بحرین کی پارلیمنٹ کے سابق رکن "جلال فیروز” نے اعلان کیا تھا کہ آل خلیفہ حکومت کے 3500 سے زیادہ مخالفین اس حکومت کی جیلوں میں شدید ترین اذیتوں میں مبتلا ہیں۔
قبل ازیں بحرین کے مرکز برائے انسانی حقوق، الخلیج سینٹر فار ہیومن رائٹس اور ڈیموکریسی اینڈ ہیومن رائٹس نے "بحرین میں جیلوں کے حالات” کے عنوان سے ایک مشترکہ رپورٹ میں اعلان کیا تھا کہ منصفانہ ٹرائل میں شدید کوتاہی مجرمانہ انصاف کی ایک منظم شکل ہے۔ بحرین میں جیل کا نظام انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی اور قیدیوں کے ساتھ تشدد اور ناروا سلوک سے مالامال ہے۔ دوسری جانب بحرین کی جیلوں کے حکام سیاسی قیدیوں کے خلاف ہر قسم کے جابرانہ اقدامات کا استعمال کرتے ہیں اور اس ملک کی جیلوں میں وبائی امراض کے پھیلاؤ کی پرواہ کیے بغیر صحت مند قیدیوں کو بیمار قیدیوں کی کوٹھڑیوں میں قید کر دیتے ہیں۔
یہ ٹارچر سیلز ہیں
گذشتہ موسم سرما میں تقریباً چھ ماہ قبل بحرین کے 162 سیاسی قیدیوں نے اس ملک کے حکام کو لکھے گئے ایک خط میں آل خلیفہ کی جیلوں کے ناگفتہ بہ حالات اور اذیتوں وغیرہ کی شکایت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ان جیلوں میں "انسانی حالات” فراہم کیے جائیں۔ قیدیوں کی درخواستوں میں صحت کی مناسب دیکھ بھال، مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت، اپنے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت کرنے اور اذیت کو کم کرنے اور قید تنہائی کو ختم کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔
قید سیاسی مخالفین کی حالت کے بارے میں انتباہ
دوسری جانب بحرین کے سیاسی قیدیوں نے حال ہی میں سیاسی قیدیوں سے نمٹنے کے سلسلے میں آل خلیفہ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس ملک میں قید معروف شخصیات کی حالت اس سے کہیں بدتر ہے، جو اس کے بارے میں باہر بتائی جا رہی ہے۔ بحرین مرر ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی "جو” سینٹرل جیل کے قیدیوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیل کے باہر اس ملک میں معروف قیدیوں کی حالت کے بارے میں جو بات کی جا رہی ہے، وہ اس سے کہیں زیادہ خراب ہے، جو کہ رپورٹ کی گئی ہے۔ جیل کے اندر سے ایک آڈیو پیغام میں قیدیوں نے ضمیر کے قیدی عبدالوہاب حسین کو علاج اور طبی امداد سے جان بوجھ کر محروم کرنے کے خطرناک نتائج کے بارے میں خبردار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس صورت حال میں ان کی صحت شدید خراب ہوئی ہے اور عبدالوہاب ایک سنگین خطرہ سے دوچار ہیں۔ اس معروف سیاسی شخصیت کی جان کو خطرہ ہے۔
اس آڈیو پیغام میں بحرین کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: "آل خلیفہ حکومت حزب اختلاف کے سیاسی شبیہہ کو ختم کرنے کے اپنے خطرناک مجرمانہ منصوبے میں سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ آل خلیفہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ قیدیوں کو دانستہ طبی سہولیات سے محروم رکھا جائے، علاج نہ کیا جائے، چیک اپ اپاوئنٹمنٹ کو بار بار منسوخ کیا جائے، دوا سے محروم رکھا جائے، تاکہ وہ آہستہ آہستہ طبعی انداز سے مر جائیں۔ اس صوتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ الخلیفہ کی جیلوں میں بعض سیاسی قیدی اور معروف شخصیات کو شدید بیماریوں کا سامنا ہے اور اس کے باوجود ڈاکٹروں کی طرف سے انہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔


































