
تحریر: عبدالباری عطوان
یمن کی قومی نجات حکومت میں قیدیوں سے متعلق امور کی کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر المرتضی نے کل جمعہ کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ جنگی قیدیوں کے تبادلے کا آغاز ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں سعودی عرب سے پہلا جہاز 125 یمنی قیدیوں کو لے کر صنعا ایئرپورٹ پر اترا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ تین دن تک جاری رہے گا۔ پہلے مرحلے میں یمن کے 240 جنگی قیدی آزاد ہوئے تھے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 350 جنگی قیدی آزاد ہو جائیں گے۔ جنگی قیدیوں کے تبادلے کا پہلا مرحلہ صنعا اور عدن کے درمیان، دوسرا مرحلہ صنعا اور ریاض کے درمیان جبکہ تیسرا مرحلہ صنعا اور مارب کے درمیان انجام پائے گا۔ یمن میں جاری جنگ کے خاتمے اور ہمیشگی جنگ بندی کی کچھ واضح علامات دکھائی دینا شروع ہو گئی ہیں۔
اس بارے میں اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگی قیدیوں کا تبادلہ کامیابی سے انجام پا لیتا ہے تو اسے یمن جنگ کے باقاعدہ خاتمے کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سال عید فطر پر یمن کی برادر قوم سینکڑوں یمنی قیدیوں کی اپنے اہلخانہ کے ہاں واپسی کا جشن منائے گی۔ یہ تبادلہ ان مذاکرات کا نتیجہ ہے جو صنعا حکومت اور یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر کی سربراہی میں سعودی وفد کے درمیان انجام پائے ہیں۔ جب سعودی عرب سے جہاز یمنی جنگی قیدیوں کو لے کر صنعا ایئرپورٹ پر اترا تو ان جنگی قیدیوں نے نیچے اتر کر سجدہ شکر ادا کیا۔ یمنی جنگی قیدیوں کے سجدہ شکر ادا کرنے اور اپنے اہلخانہ سے مل کر خوشی کے آنسو بہانے کا منظر انتہائی لذت بخش تھا۔ وہ بھی ایسے ملک میں جس نے گذشتہ کئی سالوں سے خوشی کا رنگ نہیں دیکھا۔
یمن کے مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے صنعا ایئرپورٹ پر ان جنگی قیدیوں کا استقبال کیا۔ انہوں نے جنگی قیدیوں کے تبادلے پر مبنی معاہدے کے حصول میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول سعودی عرب کے ساتھ انجام پانے والے مذاکرات بہت مشکل اور پیچیدہ تھے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا : "انسانی امداد کے حصول کیلئے انجام پانے والی کوششوں میں بھی خاطرخواہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ البتہ ابھی کافی ایشوز باقی ہیں اور ان کے بارے میں کسی مشترکہ نتیجے پر پہنچنے کیلئے سعودی وفد کچھ دن پہلے اپنی حکومت سے مشورہ کرنے کیلئے سعودی عرب چلا گیا ہے۔” اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ آٹھ برس سے جاری جنگ سے متعلق پیچیدہ امور کے بارے میں بات چیت ایک دشوار کام ہے اور ان کے نتیجہ خیز ثابت ہونے کیلئے وقت درکار ہے۔
یمن جنگ کی پیچیدگی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ طاقتیں مداخلت کر رہی ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جنگ کے فریقین سچے دل سے جنگ کا خاتمہ چاہتے ہوں۔ دونوں جانب سے سینکڑوں جنگی قیدیوں کی آزادی ایک بڑا انسانی قدم ہے جو دوطرفہ اعتماد میں بہتری کا باعث بنے گا اور دونوں ممالک کو مزید معاہدے طے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔ یمن اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ مذاکرات عمان کی ثالثی میں انجام پا رہے ہیں۔ عمان اس قسم کی ثالثی کا کردار ادا کرنے میں بہت تجربہ کار ہے۔ حالیہ مذاکرات کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ وہ بیرونی طاقتوں خاص طور پر برطانیہ اور امریکہ کی مداخلت کے بغیر انجام پائے ہیں اور ان کے نتیجہ خیز ہونے کی اہم وجہ بھی یہی قرار دی جا رہی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت مغربی استعماری طاقتیں بظاہر جمہوریت جیسے خوبصورت نعرے لگاتی ہیں لیکن اندر اندر جنگ اور دشمنی کے بیج بوتی ہیں۔
یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری مذاکرات سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں 6 ماہ کیلئے جنگ بندی کا معاہدہ انجام پانے کا قوی امکان ہے اور یہ معاہدہ عید فطر سے پہلے طے ہو جائے گا۔ اس کے بعد تین ماہ کیلئے مذاکرات کا نیا دور شروع ہو جائے گا جس کا مقصد جنگ ختم کرنے کیلئے مناسب راہ حل تلاش کرنا ہو گا۔ دونوں جانب سے مذاکرات کو مختلف مراحل میں تقسیم کرنا ایک عقلمندانہ فیصلہ ہے تاکہ اس طرح دونوں فریقین میں دھیرے دھیرے باہمی اعتماد فروغ پا سکے۔ ایسی صورت میں ہی جنگ سے متعلق مختلف پیچیدہ امور جیسے جھڑپوں کا خاتمہ، یمن میں معمول کی زندگی بحال ہونا، یمن محاصرے کا مکمل خاتمہ، صنعا ایئرپورٹ کا دوبارہ آپریشنل ہونا، الحدیدہ بندرگاہ کا کھلنا وغیرہ کے بارے میں بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔
ہم نے ابتدا سے ہی یمن اور سعودی عرب کے درمیان گفتگو اور مذاکرات انجام پانے پر زور دیا ہے اور جنگ جاری رہنے کی مخالفت کی ہے لہذا اب جب یہ عمل شروع ہو چکا ہے بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ پورے خطے میں امن اور سلامتی مکمل طور پر بحال ہو جائے اور سعودی عرب گذشتہ کئی سال تک جنگ تھونپنے کا ازلہ کرتے ہوئے یمن کو انسانی امداد فراہم کرنے کے علاوہ اس ملک میں تعمیر نو کے منصوبے بھی شروع کرے۔ حالیہ مذاکرات ایک اچھا اور اطمینان بخش آغاز ہے اور اس کے نتیجے میں جو کچھ حاصل ہوا ہے وہ بھی ایک عظیم کامیابی ہے۔ لیکن ان اچھے نتائج کی حفاظت کیلئے بیرونی مداخلت کی روک تھام کے ساتھ ساتھ امن کی حامی تمام قوتوں کی جانب سے مل کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔


































