
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
پوپ فرانسس دنیا سے چلے گئے، وہ دنیا میں کیتھولک مسیحیوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنماء تھے۔ جب سے پوپ بنے، تب سے اہل فلسطین کے حمایتی تھے۔ان پر بہت دباو ڈالا گیا، مگر وہ ہمیشہ فلسطین کی حمایت میں کھڑے رہے۔ پوپ فرانسس نے غزہ کی جنگ کے دوران وہاں کی مسیحی برادری سے مسلسل رابطہ رکھا۔ کہا جا رہا ہے کہ ہر رات کو فون کرتے تھے۔ 2024ء کے آخر میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ہوپ نیور ڈس اپوائنٹس میں انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ اسرائیل کا غزہ پر حملہ نسل کشی کے زمرے میں آسکتا ہے اور ماہرین کی ان آراء کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ دسمبر میں پوپ فرانسس نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو سفاکیت قرار دیا تو اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے ویٹی کن کے اعلیٰ سفارتکار کو طلب کرکے احتجاج کیا۔ ان کے انہیں اقدامات کی وجہ سے مسلمان اور اہل فلسطین ان سے محبت کرتے تھے۔
پاپائے روم کا ایسٹر کا پیغام ان کے ایک معاون نے پڑھ کر سنایا، جس میں پوپ نے کہا تھا کہ غزہ کی صورت حال افسوسناک ہے۔ پوپ نے دنیا میں بڑھتے اسلامیت دشمنی کے رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ اپنے پیغام میں انہوں نے تمام فلسطینی عوام کے مصائب دلی رنج کا اظہار کیا۔ پوپ فرانسس نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کریں اور بھوک سے مرنے والے لوگوں کی مدد کی اپیل کی، جو امن کے مستقبل کے خواہشمند ہیں۔ فلسطین کی حمایت میں وہ جتنا کرسکتے تھے، اتنا کر رہے تھے۔ 2014ء میں جب مقبوضہ فلسطین کے دورہ پر تھے تو پوپ فرانسس نے اپنی گاڑی رکوائی، باہر نکلے بیت لحم اور یروشلم کے درمیان علیحدگی کی دیوار کے سامنے جھک کر دعا کی۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا، جو سب کے دلوں کو چھو گیا۔
بہت سے لوگوں نے ان سے کہا کہ مسلم دہشتگردی کی مذمت کریں، اس پر وہ کہا کرتے تھے، اگر میں اسلامی شدت پسندی کی بات کروں گا تو مجھے کیتھولک شدت پسندی کی بھی بات کرنی پڑے گی۔ کتنی صاف بات ہے۔؟ اگر میں دوسرے مذہب کی برائی بیان کر رہا ہوں تو وہی برائی میرے اپنی مذہب میں موجود ہے، اس لیے یا تو ہر دو کی بات کی جائے یا کسی کی بات نہ کی جائے۔ دنیا کے ایک بڑے مذہبی پیشوا کی یہ بات سبق آموز ہے۔ ایسے وقت میں جب اسلام دشمن قوتیں دہشتگردی کو اسلام سے جوڑ رہیں، ایسے میں یہ ایک بڑا اقدام ہے۔ مغربی معاشروں میں اسلامک فوبیا کو روکنے کے لیے ایسے رہنماوں کے ان بیانات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ ان کی وفات پر اہل فلسطین غم منا رہے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ ایک فلسطینی خاتون درست کہہ رہی تھی کہ بابا ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے رہے اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ ان کے جانشین بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ فلسطینیوں کو سپورٹ کریں گے۔
اس کے مقابل انتہاء پسند اسرائیلی مرنے کے بعد بھی انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اسرائیلی انتہاء پسندوں نے پوپ فرانسس کو یہودیت سے نفرت کرنے والا قرار دیا۔ اسرائیلی چینل Kan 11 کی جانب سے پوپ کی وفات سے متعلق ایک پوسٹ پر ایک صارف نے لکھا: مجھے اس نفسیاتی بوڑھے شخص کی کوئی پرواہ نہیں، جو اسرائیل سے نفرت کرتا تھا۔ Ynet کی ایک رپورٹ کے نیچے ایک اور صارف نے لکھا: دنیا اس کے بغیر بہتر ہے۔یروشلم پوسٹ کے ایڈیٹر اِن چیف زیویکا کلین نے پوپ فرانسس کی اسرائیل پر تنقید اور حملے کے دوران فلسطینیوں کی حمایت کو حماس کی غیر مشروط حمایت قرار دیا اور کہا جب انہیں (پوپ فرانسس کو) مقرر کیا گیا تو یہودی دنیا میں ایک خاص قسم کی امید تھی، لیکن یہاں اسرائیلی اور یہودی حلقوں میں ان کے سخت بیانات کی وجہ سے بہت مایوسی ہوئی۔
پوپ فرانسس فلسطینیوں کی نسل کشی پر مسلسل بول رہے تھے، بار بار جنگ بندی کی اپیلیں کر رہے تھے۔ پوپ فرانسس کی وفات سے کچھ گھنٹے قبل، اپنے آخری عوامی خطاب میں انہوں نے ایسٹر سنڈے کی عبادت کے دوران غزہ میں جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔ فلسطینی مسیحی عالمِ دین اور بیت لحم کی ایوینجیلیکل لوتھرن کرسمس چرچ کے پادری ریورنڈ منتھر اسحاق کا کہنا ہے کہ پوپ فرانسس کا فلسطین کے حوالے سے مؤقف دراصل ان کے الٰہیاتی اور کلیسائی خدمت کا تسلسل ہے، جو ہمیشہ مظلوموں، پسماندہ افراد اور ناانصافی کے شکار لوگوں کی حمایت پر مبنی رہا ہے۔ ان کے پاس فوجی طاقت نہ تھی، وہ صرف مذہبی رہنماء تھے، اس لیے بطور مذہبی رہنماء جو کچھ وہ کرسکتے تھے، وہ یہی تھا کہ مذہب کا درست اور پرامن تعلیمات کا پیغام سامنے لائیں اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کریں۔
پوپ یہ کام مسلسل کرتے رہے اور اس معاملے میں انہوں نے کسی پروپیگنڈے کی پرواہ نہیں کی۔ ایسٹر کی دعا میں اہل فلسطین کی حمایت پر اسرائیلی قیادت ان کے بہت خلاف ہوگئی تھی۔ اسی لیے بیت المقدس کے تاریخی چرچ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہیں حضرت مسیحؑ کو صلیب چڑھایا گیا تھا، اس میں ویٹی کن کے سفیر کو ایسٹر کی عبادت میں شرکت سے اسرائیلیوں نے روک دیا تھا۔ فلسطینیوں کو ہر اہم موقع پر یاد رکھنے والا یہ مسیحی رہنماء مدت تک یاد رہے گا۔ یہی وجہ کہ تمام مزاحمتی گروہوں نے ان کی وفات پر باقاعدہ تعزیتی پیغامات جاری کیے ہیں۔


































