
تحریر: سید رضی عمادی
عراق کے صدر عبداللطیف رشید نے ہفتے کے روز تہران کے دورے کے دوران رہبر انقلاب اسلامی اور ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی سے ملاقات اور گفتگو کی۔
عراق کے صدر عبداللطیف رشید اور ان کے ہمراہ آئے وفد نے سنیچر کی شام رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے زور دے کر کہا کہ عراق کی پیشرفت، کامیابی، خود مختاری اور سربلندی اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے بہت اہم ہے اور دوطرفہ تعاون میں فروغ اور طے پا چکے معاہدوں پر عمل درآمد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عراق کے ساتھ ہے اور عراق کی پیشرفت ہماری آرزو ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے تعاون میں فروغ کے لیے، طے شدہ معاہدوں خاص طور پر سکیورٹی اور معیشت کے شعبے میں ہونے والے سمجھوتوں پر سنجیدگي سے عمل درآمد کو ضروری بتایا اور کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات میں فروغ اور گہرائی کے کچھ کٹر دشمن ہیں اور اگر دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تاریخی اور اعتقادی رشتے نہ ہوتے تو تعلقات کی صورتحال شاید صدام کے زمانے کی طرح ہو جاتی۔ انھوں نے ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سال تک چلنے والی جنگ کے باوجود اربعین اور دیگر موقعوں پر عراقی عوام کی جانب سے ایرانی زائرین کی خاطر مدارات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بڑی اہم چیز کا مطلب یہ ہے کہ دونوں قوموں اور ملکوں کے درمیان اتحاد کے اسباب موجود ہیں، جن پر بیرونی سیاسی عناصر اثر انداز نہیں ہوسکتے، بنابرایں اس موقعے سے تعلقات میں زیادہ سے زیادہ گہرائی لانے کے لیے فائدہ اٹھانا چاہیئے اور تعلقات کے جاری رہنے کے لیے بہت زیادہ چوکنا اور ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے عراقی حکومت کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے عراقی عوام اور گروہوں کے اتحاد کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ عراق میں بہت اچھی شخصیات، اچھی فکر والے لوگ اور پرجوش اور محنتی جوان ہیں اور اس قومی ثروت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے اور اس اتحاد کے اسباب کی حفاظت ہونی چاہیئے۔ انھوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکی، عراق کے دوست نہیں ہیں، کہا کہ امریکیوں کی کسی سے بھی دوستی نہیں ہے اور وہ اپنے یورپی دوستوں تک کے وفادار نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عراق میں ایک امریکی کی موجودگی بھی زیادہ ہے۔ اس ملاقات میں، جس میں صدر مملکت حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئيسی بھی موجود تھے، عراق کے صدر عبداللطیف رشید نے رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سے ہمارا رشتہ، مختلف پہلوؤں سے اور مختلف میدانوں میں ایک دائمی اور مضبوط رشتہ ہے۔
انھوں نے ایرانی حکام سے اپنی ملاقات اور بات چیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق، ایران سے اپنے رشتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے اور دونوں ملکوں کے درمیان باقی ماندہ بعض مسائل کو عملی جامہ پہنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ عراق کے صدر نے اسی طرح مختلف موقعوں خاص طور پر دہشت گردی سے جنگ کے دوران ایران کی حکومت اور قوم کی جانب سے کی جانے والی مدد اور حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ تہران کے ایک روزہ دورے پر عبداللطیف رشید کے ساتھ وزارت خارجہ، بجلی، آبی وسائل کی وزارت اور عراق کی قومی سلامتی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بھی ہمراہ تھے۔ ایرانی اور عراقی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کا محور سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی امور تھے۔
ایران اور عراق کے درمیان سیاسی تعلقات، مستحکم اور پرامن
سیاسی طور پر ایران اور عراق کے درمیان مستحکم اور پرامن تعلقات ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عراق، تہران اور ریاض کے درمیان حالیہ معاہدے سے قبل ایران اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے درمیان ثالثی کا ایک چینل بھی رہا، نیز ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا بھی ذریعہ ہے۔ البتہ بعض مسائل میں فریقین کے موقف میں اختلافات بھی ہیں، جیسا کہ ایران خطے اور عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے خلاف ہے، لیکن عراقی حکومتیں عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے سید ابراہیم رئیسی نے عبداللطیف رشید سے ملاقات میں کہا کہ ہم خطے کے ممالک کے درمیان مذاکرات کو جتنا مفید سمجھتے ہیں، ہم خطے میں بیرونی قوتوں کی موجودگی کو مفید نہیں سمجھتے، ہم امریکیوں کی موجودگی کو خطے کی سلامتی کے لیے تباہ کن سمجھتے ہیں۔”
ایران اور عراق کے درمیان اقتصادی تعلقات؛ امریکی پابندیوں کے زیر اثر
اقتصادی طور پر ایران اور عراق کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں، لیکن یہ تعلقات امریکی پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ایرانی صدر کے مطابق ایران اور عراق کے درمیان تجارتی تعلقات کا حجم اب تقریباً 10 بلین ڈالر ہے۔ اس سے قبل دونوں ممالک کا تجارتی حجم 12 ارب ڈالر سے زیادہ تھا اور فریقین نے اسے 20 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ واشنگٹن، ایران اور عراق کے درمیان اقتصادی تعلقات کی مضبوطی میں رکاوٹ ہے۔امریکی پابندیاں ایک اہم عنصر ہے، جس کی وجہ سے ایران اور عراق کے درمیان تجارتی حجم میں توسیع نہیں ہوئی، کیونکہ ایک طرف عراق، ایران کے ساتھ تجارتی حجم میں اضافے کی وجہ سے امریکہ کی جانب سے پابندیوں کی وجہ سے پریشان ہے اور دوسری طرف عراق کے پاس ایران کے قرضوں کی بروقت ادائیگی کے لیے وسائل نہیں۔ اسی وجہ سے ایران کے قرضوں کا مسئلہ ہمیشہ دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان بحث کے اہم نکات میں سے ایک رہا ہے۔
ایران اور عراق کے درمیان سکیورٹی مفاہمت
ایران اور عراق کی سرحد 1500 کلومیٹر سے زیادہ ہے، اس لیے ایک ملک کے سکیورٹی کے خطرات دوسرے ملک کو متاثر کرتے ہیں۔ 2014ء سے 2017ء تک جب عراق کی ارضی سالمیت اور سلامتی کو داعش دہشت گرد گروہ کے حملے سے خطرہ تھا، اسلامی جمہوریہ ایران نے اس دہشت گرد گروہ کے خلاف جنگ میں عراق کو بہت زیادہ مدد فراہم کی۔ دوسری طرف عراق کے شمال سمیت عراق کے بعض علاقوں میں ایران مخالف دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروہوں کی موجودگی بھی ایران کے لیے خطرہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے اس مسئلے پر کئی بار عراقی حکام سے بات چیت کی ہے۔ اس مشترکہ فہم کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ بغداد اور تہران میں سکیورٹی کے مواقع اور خطرات موجود ہیں۔
عراقی صدر کے دورہ تہران کے دوران رشید اور رئیسی کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ایک اہم محور سکیورٹی مسائل تھے۔ اس سلسلے میں سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ "دونوں ممالک کے درمیان ایک سکیورٹی سمجھوتہ قائم ہوگیا ہے اور عراق میں کہیں بھی معمولی سا سکیورٹی کا مسئلہ ایران کا عدم تحفظ ہے۔ سید ابراہیم رئیسی کے بقول عراق اور سرحدوں کی سلامتی ہمارے لیے بہت اہم ہے اور دونوں ممالک کی سلامتی کو مشترکہ سلامتی سمجھنا نہ صرف دونوں ممالک کی سلامتی بلکہ خطے کی سلامتی میں بھی مدد کرتا ہے۔


































