
تحریر: محمد بشیر دولتی
مرکاوا ٹینک کیا ہے؟ یہ دراصل ایک چلتا پھرتا فولادی قلعہ ہے۔ یہ وہ ٹینک ہے جسے اسرائیل نے اپنی تمام تر ضروریات اور نفسیات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا ہے۔ یہ ٹینک شہری علاقوں میں جنگ کے لیے بنایا گیا ہے۔ 1970ء میں اسرائیل نے اس کی تیاری شروع کی اور اب تک اس کے کئی ورژن بنا چکا ہے۔ اس کا جدید ترین ورژن مرکاوا فور ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ کوئی اسلحہ، میزائل یا راکٹ اسے تباہ نہیں کر سکتا۔ یہ اپنی طرف آنے والے راکٹ کو ہوا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک آہنی دروازہ بھی موجود ہے، جو زخمیوں کو منتقل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے اندر جدید سہولیات، جنگی آلات اور دوربینیں نصب ہیں۔ اس ٹینک کو تباہ کرنے کا شرف سب سے پہلے حزب اللہ نے حاصل کیا۔
حزب اللہ نے تینتیس روزہ جنگ میں سینکڑوں ٹینک تباہ کیے۔ حماس بھی اس معاملے میں حزب اللہ سے کم نہیں؛ انہوں نے بھی متعدد مرکاوا ٹینک تباہ کیے ہیں۔ مرکاوا ٹینک کو تباہ کرنے کے کئی طریقے سامنے آئے ہیں۔ سب سے زیادہ اسے کورنیٹ میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ آر پی جی-29 کے ذریعے قریبی فاصلے سے بھی اسے تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ لبنان اور غزہ میں بارودی سرنگوں کے ذریعے بھی اسے نقصان پہنچایا گیا، اور بعد ازاں میزائل حملوں سے مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔ سب سے خطرناک اور جدید ہتھیار ڈرون کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے اس وقت حزب اللہ لبنان میں اس ٹینک کو نشانہ بنا رہی ہے۔ لوگ جس حزب اللہ کے بارے میں سمجھ رہے تھے کہ وہ ختم ہو چکی ہے، اور آخری جنگ بندی کے بعد اب وہ دوبارہ مزاحمت کے قابل نہیں رہی، اسی حزب اللہ نے اب اسرائیل کو شدید نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔
حالیہ جنگ میں وہ ایک دن میں ستر، اسی جنگی کارروائیاں انجام دے رہی ہے۔ حزب اللہ کے میزائل زیادہ تر اسرائیلی فوجی چھاؤنیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ لبنان کے جن علاقوں سے جنگ بندی کے بعد حزب اللہ کو پیچھے دھکیل کر لبنانی فوج کے حوالے کیا گیا تھا، وہاں اسرائیلی حملوں کے بعد لبنانی فوج پیچھے ہٹ گئی اور حزب اللہ نے دوبارہ پوزیشن سنبھال لی۔ یہاں حزب اللہ بھرپور مزاحمت کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ صرف ایک مہینے میں حزب اللہ نے بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ "لشکرِ حاجی رضوان” کے ذریعے تقریباً سو مرکاوا ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اسرائیل کے مطابق تباہ شدہ ٹینکوں کی تعداد ستر ہے۔ بعض فارسی ذرائع ابلاغ کے مطابق حزب اللہ کی دھمکیوں کے باعث اسرائیل کے قریبی جو قصبے خالی ہوئے تھے، حزب اللہ ان میں سے بعض تک پہنچ چکی ہے۔
استعمار اور مخالفین کی لاکھ کوششوں کے باوجود حزب اللہ کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوئی ہے اور اس جنگ میں اسرائیل کو جانی و مالی نقصان پہنچا رہی ہے۔ لبنان کے قریب ایک اسرائیلی شہر کے میئر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے ہمیں حزب اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، اور پورا شہر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے۔ اکثر اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت حزب اللہ کو شکست نہیں دے سکی تو ایران کو کیسے دے گی؟ اسی وجہ سے اسرائیلی بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں،انہیں احساس ہوگیا ہے کہ حکومت ان سے سچ نہیں بول رہی۔ اسرائیل میں جہاز اور کشتیاں ایرانی میزائلوں کی زد میں ہیں، جبکہ فولادی قلعہ مرکاوا ٹینک کا قبرستان لبنان بنتا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک سے آنے والے یہودی یہاں مرنے کے لیے نہیں آئے تھے، بلکہ ایک بہتر مستقبل کا خواب لے کر آئے تھے، جو اب ٹوٹتا نظر آ رہا ہے۔ وہ اب اپنے خواب سمیٹ کر قبرص اور یونان کی طرف جا رہے ہیں۔


































