
تحریر: سید تنویر حیدر
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا فرمان ہے کہ ”جب روٹی مزدور کی مزدوری سے مہنگی ہو جائے تو تین چیزیں سستی ہو جاتی ہیں۔ عورت کی عزت، مرد کی غیرت اور انسان کا خون۔“
یکم مئی دنیا کے گوش و کنار میں ”عالمی یوم مزدور“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد امریکہ کے شہر شکاگو کے محنت کشوں کی جدوجہد کو یاد کرنا ہے۔ یہ روز اب محنت کشوں کی جدوجہد کا استعارہ بن چکا ہے۔ 1886ء میں شکاگو میں سرمایہ دار طبقے کے خلاف آواز بلند کرنے والے پسینے میں شرابور مزدوروں کو خون میں نہلا دیا گیا تھا۔ عالمی سامراج کے دامن پر جہاں اور بہت سے داغ انمٹ نقوش کی طرح ابھی تک باقی ہیں، وہاں مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے لگنے والا داغ بھی کسی نہ کسی صورت میں ابھی تک نمایاں ہے۔ بندہء مزدور کے اوقات ابھی بھی بہت تلخ ہیں۔ محنت مزدوری کرنے والے ایک مزدور کے لیے فی زمانہ اپنے لیے دو وقت کی روٹی کمانا مشکل تر ہوگیا ہے۔ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا فرمان ہے کہ ”جب روٹی مزدور کی مزدوری سے مہنگی ہو جائے تو تین چیزیں سستی ہو جاتی ہیں۔ عورت کی عزت، مرد کی غیرت اور انسان کا خون۔“
آج کا مزدور ہمارے جس معاشرے میں اپنا رزق تلاش کر رہا ہے، وہاں پردہ نشین خواتین آٹے کے ایک تھیلے کی تلاش میں لوگوں کے ہجوم تلے کچلی جاتی ہیں۔ پاکستان جیسے غیر عادلانہ معاشرے میں اگرچہ مزدور مکمل طور پر استحصالی طاقتوں کے شکنجے میں ہے، لیکن آزادی کی طرف بڑھتے ہوئے ممالک میں صورت حال قدرے مختلف ہے۔ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے بقول ”آج سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کا وجود بکھر چکا ہے۔“ وہ مزدوروں کے حوالے سے اسلام کا نظریہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”اشتراکی نظام کی کھوکھلی نعرے بازی کے برخلاف مزدوروں کے حوالے سے اسلامی نظریہ قدردانی اور قدر شناسی پر استوار ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے، جس پر رسول خدا نے مزدور کے ہاتھ چومے تھے۔“
رہبر معظم مزدور کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ ”ایک مزدور کسی بھی ملک کی پیدوار کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔“ ان کی نظر میں ”آجر اور اجیر پرواز کے لیے دو ضروری پر ہیں۔“ یعنی ان میں سے ایک پر بھی سالم نہ ہو تو معاشرہ ترقی کے آسمان کی طرف محو پروز نہیں ہوسکتا۔ دفاع مقدس میں بھی چودہ ہزار کے قریب مزدوروں نے اپنے وطن کی اس مٹی کی حفاظت میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، جس پر انہوں نے اپنے وطن کی عمارت کھڑی کی تھی۔ عالمی یوم مزدور کی نسبت سے مزدور کہلائے جانے والے کے ذکر کے بعد اب ہم ایک ایسے مزدور کا ذکر کرنے لگے ہیں، جس کے کام کی نوعیت مختلف ہے اور جو خود ایک استحصالی طاقت ہے۔ اس کا کام کسی کے گھر کی در و دیوار کھڑی کرنا یا اسی نوعیت کی تعمیری مزدوری کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا کام مظلوموں کے گھروں کو مسمار کرنا ہے۔ یہ مزدور کسی عام ٹھیکے دار کا اجرتی ملازم نہیں ہے بلکہ یہ عالمی قسم کے ٹھیکے داروں کو اپنا ہنر بیچتا ہے۔
اگر ماضی کے جھروکوں میں جھانک کر ہم دیکھیں تو دیکھیں گے کہ کس طرح بڑے عالمی ٹھیکیداروں نے اپنے مزدوروں کی مدر سے خطہء فلسطین پر ایک پوری حکومت کی بساط کھڑی کر دی اور ابھی تک ان کے مزدور اپنی مزدوری میں مشغول ہیں اور آئے روز مظلوم فلسطینیوں کے گھر مسمار کرتے رہتے ہیں۔ آج کے دور کے اس طرح کے یہ مزدور جس طرح غریبوں کی جھونپڑیاں بلڈوز کرکے اس جگہ پر امراء کے محل تعمیر کرتے ہیں اور جس جدید تکنیک سے استفادہ کرتے ہیں، وہ احرام مصر بنانے والوں کے پاس بھی نہیں ہوگی۔ شاعر مشرق کی یہ نظم آج کے مزدور کے لیے ایک آفاقی پیغام ہے:
بندہء مزدور کو جا کر مرا پیغام دے
خضر کا پیغام کیا، یہ ہے پیام کاٸنات
اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دارِ حیلہ گر
شاخِ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
دستِ دولت آفریں کو مزد یوں ملتی رہی
اہلِ ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکات
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
اٹھ کے اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے


































