
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری انتہائی ضروری ہے،کشمیر سمیت پوری دنیا میں انسانیت کا احترام کیا جانا چاہیے، اگرپاکستان اور بھارت رضامند ہوں تو وہ ثالثی کیلئے تیار ہیں
پاکستان میں افغان مہاجرین کی میزبانی برادارنہ تعلقات اور قربانی کی مثال ہے ، افغانستان کے تمام مسائل کا حل افغان سرزمین سے ہی ممکن ہے ،سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے،کشمیر سمیت پوری دنیا میں انسانیت کا احترام کیا جانا چاہیے، اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر تقریب سے خطاب میں انھوں نے کہاکہ آبی تقسیم پر پاکستان اور بھارت میں تاریخی معاہدہ موجود ہے، بھارت سے موثر ڈائیلاگ سے پانی کی تقسیم کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے،پانی تنازع کا باعث بننے کے بجائے امن کاذریعہ ہونا چاہیے، انھوں نے کہا کہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا حامی ہوں، اگر فریقین رضامند ہوں تو وہ ثالثی کیلئے تیار ہیں اور ان کا دفتر اس کیلئے حاضر ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری انتہائی ضروری ہے، انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کا مؤقف بڑا واضح ہے، عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل نے کہاکہ دنیا اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرات درپیش ہیں،سیلاب اور قدرتی آفات سے پاکستان بہت متاثر ہوا ہے،پاکستان میں ترقیاتی اہداف کو موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرات لاحق ہیں،ان سے نمٹنے کے لیے عالمی قائدین کو مل جل کر کام کرنا ہوگا، افغان مہاجرین سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب میں انتونیوگوتریس نے سورہ توبہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ جو تم سے پناہ کا طالب ہو اسے پناہ دے دیا کرو، قرآن کریم میں پناہ سے متعلق بہت واضح طور پر بات کی گئی ہے، پاکستان کی فراخ دلی دہائیوں پرمحیط ہے، پاکستان دنیا میں مہاجرین کا دوسرا بڑا میزبان ملک ہے، پاکستان میں افغان مہاجرین کی میزبانی برادارنہ تعلقات اور قربانی کے مترادف ہے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تمام مسائل کا حل افغان سرزمین سے ہی ممکن ہے ، افغانستان میں امن کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی زندگی تبدیل کی جاسکتی ہے،عالمی برادری افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے آگے آئے، افغانستان اوراس کے عوام کو اب تنہا نہ چھوڑیں۔


































