
رپورٹ: علی واحدی
افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا چوتھا اجلاس سمرقند ازبکستان میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چین، ایران، پاکستان، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بالخصوص علاقائی سلامتی، افغانستان میں امن کی بحالی اور امریکی مداخلت کے خاتمے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا۔ اس کانفرنس کا انعقاد اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا خطے میں امریکی عمل دخل، فوجی اڈوں کی موجودگی، ریشہ دوانیوں کے خلاف واضح موقف اہم پیش رفت ہے۔ حال میں چین کے ذریعے ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد خطے میں اعتماد کی فضا پیدا ہوئی ہے، جس کے بعد امریکہ کے مقابلے میں چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل یہ فضا اور ماحول موجود نہیں تھا، غلط فہمیوں اور عدم اعتماد کیوجہ سے امریکہ کو علاقے میں توڑو اور فائدہ اٹھاو کے فارمولے کیساتھ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا آسان ہو جاتا تھا، لیکن اب ایسا کرنا مشکل ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں نہ صرف تباہی مچائی بلکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے بہانے چین، ایران اور روس پت نظر رکھنے کے لیے اپنے اڈے بھی قائم کر لیے۔
امریکی انخلا کے بعد خطے میں چین قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ پہلے کی نسبت چین کی حیثیت میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ دوسرے ممالک کی یک رخی پالیسیاں بھی بدل رہی ہیں۔ لیکن افغانستان میں طالبان حکومت سے ابھی بھی تحفظات موجود ہیں۔ جیسا کہ اس کانفرنس کے اختتام پر چین کے وزیر خارجہ کن گینگ نے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق طالبان حکومت کی متعارف کرائی گئی حالیہ پالیسیوں کے اثرات کے بارے میں چین کو تشویش ہے۔ کیونکہ اس وقت افغانستان میں طالبان حکام کی جانب سے اقوام متحدہ سے منسلک خواتین پر کام کرنے پر پابندی عائد کرنے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ خواتین کے حقوق کا مسئلہ بہت اہم ہے، لیکن یہ واحد مسئلہ نہیں ہے، جس کا افغانستان کو سامنا ہے اور نہ ہی یہ افغانستان کے مسائل کی بنیادی وجہ ہے، ہمیں اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری جانب طالبان حکام کی دلیل ہے کہ خواتین کی ملازمت پر پابندیوں میں توسیع کی وجہ افغانستان میں اقوام متحدہ کی سرگرمیاں ہیں۔ چین کے نزدیک افغان مسئلے کو ایک جامع اور منظم حل کی ضرورت ہے۔
امریکی انخلا کے بعد آنیوالی عبوری حکومت کیساتھ چین کے اچھے تعلقات ہیں۔ اب چین اس بات کی وکالت کرتا ہے کہ بین الاقوامی برادری افغانستان کی معیشت کو ترقی دینے اور لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے، انسانیت اور ترقی کی امداد فراہم کرنے اور بات چیت اور مواصلات کے ذریعے افغانستان کی معتدل اور مستحکم طرز حکمرانی کو فروغ دینے میں مدد جاری رکھے گی تاکہ خواتین، بچوں اور اقلیتی قومیتوں سمیت تمام افغان عوام کے بنیادی حقوق اور مفادات کا مؤثر طریقے سے تحفظ کیا جا سکے۔ اجلاس میں ایران، پاکستان، روس اور چین کے وزرائے خارجہ اور افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیر خارجہ کی شرکت اور باہمی ملاقاتوں کے علاوہ مشترکہ اعلامیہ میں افغانستان کے مسائل کے حل پر جہاں زور دیا گیا ہے، وہیں امریکی بالادستی کو بھی چینلج کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں اہم نکتہ امریکی اثرورسوخ کیخلاف اتحاد اور واضح حکمت عملی کا اعلان ہے۔ اعلامیہ میں جن نکات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے افغانستان کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کا فوری طور پر خاتمہ، افغان عوام کی بیرون ملک رقوم کی فوری واپسی اور افغانستان اور خطے میں فوجی اڈے دوبارہ نہ قائم کرنے کے لیے چھ اہم اتفاق رائے شامل ہے۔
افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ:
۱۔ پرخلوص، حقیقت پسند اور باہمی اعتماد کے ماحول میں تمام فریقین نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے رجحان پر تفصیل کے ساتھ جامع اور تعمیری بات چیت کی۔
۲۔ تمام فریقوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان کو دہشت گردی اور منشیات کے خطرے سے پاک ایک پرامن، متحد، خودمختار اور آزاد ریاست بننا چاہیے۔
۳۔ افغانستان میں دہشت گردی سے متعلق سلامتی کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔
۴۔ تمام فریقوں نے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے مابین انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط کیا جانا چاہئے اور ایک متحدہ محاذ قائم کیا جانا چاہئے۔
۵۔ فریقین نے بین الاقوامی برادری سے افغانستان کے ساتھ بات چیت اور رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور افغانستان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مزید اقدامات کرے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان انتظامیہ تمام نسلی گروہوں، خواتین اور بچوں سمیت بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے تمام افغان شہریوں کو سماجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی زندگی میں حصہ لینے کے مساوی حقوق فراہم کرے۔
۶۔ تمام فریقین افغانستان کی سنگین انسانی اور معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور افغان عوام کو انسانی امداد کی مسلسل فراہمی اور افغانستان کی معاشی تعمیر نو کے لیے حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔
۷۔ تمام فریقوں نے بین الاقوامی برادری سے اپپل کی ہے کہ وہ افغان عوام کے لیے ہنگامی انسانی امداد میں اضافہ کرے اور افغان عوام کو ضروری انسانی امداد کی فراہمی کو سیاست رنگ دینے کی مخالفت کرے۔
۸۔ تمام فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی معیشت کی بحالی کے لئے کابل کو امداد دینا افعان عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور بیرون ملک تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنے میں مفید ثابت ہوگا۔
۹۔ افغانستان کی موجودہ مشکل صورتحال کے اہم ذمہ دار ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کی معاشی تعمیر نو اور مستقبل کی ترقی سے متعلق اپنے وعدوں کو سنجیدگی سے پورا کریں۔
۱۰۔ تمام فریقین سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے لیے توانائی، نقل و حمل، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے بین الاقوامی منصوبوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے، جو افغانستان کی سماجی و اقتصادی ترقی اور عالمی معیشت میں فعال انضمام میں مددگار ثابت ہوگا۔
۱۱۔ فریقین نے سیاست و سفارت کاری، اقتصادی انسانیت، سلامتی اور استحکام پر تین ورکنگ گروپوں کے اجلاسوں کا جلد از جلد آغاز کرنے کا اعادہ کیا اور 2024 میں اشک آباد میں وزرائے خارجہ کے پانچویں اجلاس کے انعقاد میں ترکمانستان کی حمایت کی ہے۔


































