Fri Oct 09, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

اسماعیل ہنیہ اور محمود عباس ریاض میں

تحریر: احمد کاظم زادہ

حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور سیاسی دفتر کے سابق سربراہ خالد مشعل حماس کے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اتوار 16 اپریل کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچے۔ اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل کئی برسوں تک قطر میں مقیم رہے۔ حماس کے بین الاقوامی تعلقات کے انچارج "موسیٰ ابو مرزوق” نیز قیدیوں اور سابق فوجیوں کے دفتر کے انچارج "ظاہر جبرین” اس سفر میں اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ہیں۔ ادھر "العربی الجدید” اخبار کی ویب سائٹ نے بعض باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ الفتح کے سربراہ محمود عباس بھی ریاض میں موجود ہیں اور ان کا دورہ 19 اپریل تک جاری رہے گا۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری جنرل "حسین الشیخ” بھی اس ملاقات میں شریک ہوں گے۔ (PLO) کی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ "ماجد فراج” بھی ملاقاتوں میں شریک ہونگے۔

سعودی عرب نے تنظیم آزادی فلسطین کے محمود عباس کو تقریباً دو ہفتے قبل ضیافت افطار میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس حقیقت کے باوجود کہ گذشتہ دسمبر میں سعودی عرب میں ہونے والے عرب اور چینی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کے دوران محمود عباس ریاض میں موجود ہونے کے باوجود کسی بھی سعودی اہلکار سے ملاقات نہیں کر پائے تھے۔ حماس کے اسماعیل ہنیہ اور تنظیم آزادی فلسطین کے محمود عباس کو ایک وقت میں ریاض کی دعوت مختلف جہتوں سے قابل ذکر اور فکر انگیز ہے۔ سب سے پہلے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ دونوں فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ سعودی تعلقات کی برف پگھل رہی ہے، حالانکہ یہ دونوں مختلف اور حریف فلسطینی دھڑوں کی قیادت کرتے ہیں اور کافی عرصے سے سعودی عرب سے ناراض تھے۔

ہانیہ اور مشعل کا سعودی عرب کا حالیہ دورہ
حماس اور سعودی عرب کے درمیان 2007ء کے مکہ معاہدے کے خاتمے کے بعد تعلقات خراب ہوگئے تھے۔ دوسری طرف فلسطینی انتخابات میں حماس کی فتح نے غزہ پٹی سے تنظیم آزادی فلسطین کے محمود عباس کی سیاست کو تقریباً ختم کر دیا تھا۔ حماس کے وفد کا ریاض کا آخری دورہ 2015ء میں ہوا تھا، جب اس تحریک کے سیاسی دفتر کے اس وقت کے سربراہ خالد مشعل نے مکہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور اس ملک کے متعدد عہدیداروں سے ملاقات اور گفتگو کی تھی۔ 2019ء میں حماس تحریک نے اعلان کیا تھا کہ سعودی سکیورٹی فورسز نے حماس کے اہم رہنما "محمد الخضری” اور ان کے بیٹے ہانی کو درجنوں فلسطینی شہریوں سمیت گرفتار کیا ہے، جن میں سے کچھ اردنی شہریت کے حامل ہیں۔

2021ء میں سعودی فوجداری عدالت نے محمد الخضری کو مزاحمت کی حمایت کرنے پر 15 سال قید کی سزا سنائی۔ اس عدالت میں 69 اردنی اور فلسطینیوں پر مقدمہ چلایا گیا، بعض کو آزاد جبکہ بعض کو 22 سال تک کی سزائیں سنائی گئیں۔ 19 اکتوبر 2022ء کو سعودی عرب نے الخضری کو رہا کرکے اردن بھیج دیا۔ سعودی حکام نے 2019ء میں درجنوں فلسطینیوں اور اردنی باشندوں کو گرفتار کیا اور فلسطینیوں کی مزاحمت کی حمایت کرنے پر ان پر مقدمہ چلایا۔ حماس تحریک نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کی جیلوں میں تقریباً 60 فلسطینی شہری قید ہیں۔

خطے میں سعودی عرب کی حکمت عملی میں تبدیلی، ایران سے حماس تک
گذشتہ مہینوں کے دوران سعودی عرب نے متعدد اردنی اور فلسطینی شہریوں کو رہا کیا، جو فلسطینی مزاحمت کی حمایت کرنے کے جرم میں قید تھے۔ ایک بیان میں حماس نے سعودی عرب کے ساتھ "سفارتی قربت” کو "اسلامی امت کے اتحاد کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے عرب ممالک اور مسلم حکومتوں کے درمیان سلامتی، علاقائی استحکام اور افہام و تفہیم کو بڑھاوا مل سکے گا۔” اس بیان میں حماس نے مزید کہا کہ یہ قدم فلسطینی کاز کے مفادات کے مطابق ہے اور فلسطینی قوم اور اس کے مقدسات کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خلاف "مزاحمت” کی حمایت ہے۔ ایسی حمایت جو اب بھی جاری و ساری ہے۔

پی ایل او اور محمود عباس کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں، جب سے سعودی عرب نے ٹرمپ کے دور میں صیہونی حکومت کے قریب ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی، امریکہ اور صیہونی حکومت نے فلسطینی تنظیموں کو الگ تھلگ کرنے کے لئے عرب ممالک سے تعلقات کو بحال کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ بائیڈن دور میں، اگرچہ امریکہ نے پی ایل او تنظیم کے خلاف کچھ دباؤ کم کیا، لیکن تعلقات کو مکمل بحال نہیں کیا گیا۔ بہرحال اس وقت سعودی عرب کی پی ایل او تنظیم کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی موجودہ خواہش سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب خطے میں نئی حکمت عملی کے فریم ورک میں آگئے بڑھ رہا ہے۔ اس بنا پر حماس اور پی ایل او جیسی تنظیموں کے رہنماؤں کے ریاض کے بیک وقت دورے کی دوسری جہت کا اندازہ مزاحمتی بلاک کے ساتھ سعودی عرب کی مفاہمت کے تسلسل میں لگایا جا سکتا ہے۔

فیصل المقداد کا جدہ کا سفر، سعودی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا تیسرا رخ
سعودی عرب کی ایران اور شام کے ساتھ مفاہمت کے بعد ریاض میں حماس اور پی ایل او جیسی تنظیموں کے وفود کی میزبانی ریاض کی سفارت کاری کی نئی جہتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ چین کی ثالثی کے بعد سعودی عرب اس سال 10 مارچ کو ایران کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا اور اسی طرح شام کے ساتھ تعلقات کو شام کی جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لایا گیا ہے۔ ایران اور شام میں سعودی سفارت خانے آنے والے ہفتوں میں دوبارہ کھولے جانے والے ہیں اور سفیروں کو جلد ایک دوسرے کے ممالک میں بھیجا جائے گا۔ اب ریاض میں حماس اور پی ایل او جیسی تنظیموں کے وفود کی بیک وقت موجودگی سے ایسا لگتا ہے کہ مکہ میں قائم ان دونوں فلسطینی گروہوں کی مصالحت اور معاہدہ کے لیے سعودی ثالثی کے ایک نئے دور کے احیاء کے لیے میدان تیار کیا جا رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ایران اور شام کے ساتھ سعودی تعلقات کی بہتری اور مفاہمت کا ایک مثبت نتیجہ فلسطین میں اتحاد کی صورت میں نکلے گا۔ سعودی عرب کی ثالثی سے حماس اور الفتح کی مفاہمت کے لیے زمین فراہم ہوگی اور بلاشبہ یہ سب سے بڑا نتیجہ ہوگا، کیونکہ اسے صیہونی حکومت کے لیے ایک بڑی شکست سمجھا جائیگا۔صیہونی حکومت نے فلسطین اور خطے میں اپنی پالیسیوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر رکھا ہے۔

سعودی عرب میں ایرانی سفارتخانے کا دروازہ کھلنا، تہران ریاض معاہدے کے نفاذ میں ایک نیا قدم
سعودی عرب کی ایران اور شام کے ساتھ مفاہمت کے بعد اب اسرائیل کو تیسرا سب سے بڑا جھٹکا سعودی عرب کی حماس کے ساتھ مفاہمت اور حماس اور پی ایل او کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں سے پہنچنے والا ہے۔ 16 اپریل کو اسرائیلی اخبار معاریف نے حماس کے وفد کے سعودی عرب کے دورے کی رپورٹ میں لکھا: "سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے راستے سے ہٹ گیا ہے۔” صہیونی ٹی وی چینل "i24 News” نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حماس کے وفد کے دورہ ریاض کا مطلب عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کے منصوبے کی ناکامی ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ صیہونی حکومت بالخصوص نیتن یاہو نے اپنی اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کو ایک آلے اور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، لیکن اب یہ ہتھیار بے اثر ہونے کو ہے، اس سے یقینی طور پر نیتن یاہو کی کابینہ کے اندرونی چیلنجوں میں اضافہ ہوگا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular