آیت اللہ سیستانی کے فتوے نے ملک میں اتحاد و یکجہتی پیدا کی،صدر وزیراعظم
بغداد(نیوز ڈیسک)عراقی صدر اور وزیراعظم نے دینی مرجعیت کو داعش کی ناکامی میں ایک اہم عنصر قرار دیا ہے، الحشد الشعبی کے قیام کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے کہاکہ آیت اللہ سیستانی کے فتوے نے داعش کی پیشقدمی کو روک دیا اور عراق کو تباہ و برباد کرنے اور آمریت کے نظام کو دوبارہ لانے کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا، اسی فتوے کے بعد عراقی عوام نے میدان میں آکر بڑی کامیابیاں حاصل کیں، داعش کو بدترین شکست دی اور عراق کے سبھی شہروں کو اسکے قبضے سے آزاد کرا لیا، صدر برہم صالح نے کہا کہ آیت اللہ سیستانی کے فتوے نے ملک میں اتحاد و یکجہتی پیدا کی اور دہشت گردی کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا ، قومی سلامتی کے مشیر اور عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے سربراہ، فالح الفیاض نے بھی آیت اللہ سیستانی کو عوامی رضاکار فورس کا سب سے بڑا پشت پناہ اور اس ادارے کا روحانی باپ قرار دیا ،الفتح اتحاد کے سربراہ ہادی العامری نے کہا کہ آیت اللہ سیستانی کے فتوے نے ملک کے خلاف بڑی سازش کو ناکام بنا دیا۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- مشرق وسطی
- عراق:دینی مرجعیت داعش کی ناکامی میں ایک اہم عنصر


































