
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ مغرب والے طاقتور اور خودمختار روس کے پوری طرح خلاف ہیں۔ انہوں نے نیٹو کو ایک خطرناک تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیٹو کا راستہ نہ روکا جائے تو پھر وہ ہر حد کو پار کر دیتی ہے اور اگر یوکرین میں اسے روکا نہ جاتا تو کچھ عرصے بعد وہ کریمیا کے بہانے یہی جنگ شروع کر دیتی۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ آج امریکا اور مغرب، پہلے سے زیادہ کمزور پڑ چکے ہیں اور بے انتہا کوشش اور حد سے زیادہ پیسے خرچ کرنے کے باوجود، شام، عراق، لبنان اور فلسطین سمیت ہمارے علاقے میں ان کی پالیسیوں کی رینج بہت محدود ہو چکی ہے۔ انہوں نے مغرب کی فریب کاریوں سے چوکنا رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ امریکی منہ زور بھی ہیں اور عیار بھی ہیں اور سابق سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کا ایک سبب، امریکی سازشوں سے دھوکا کھا جانا تھا۔ البتہ آپ کے دور حکومت میں روس نے اپنی خودمختاری کی حفاظت کی ہے۔ انہوں نے روس اور ایران کے درمیان قومی کرنسی کو استعمال کرنے اور ڈالر کی جگہ دوسری کرنسیوں کو متبادل بنانے کی پالیسی کی تائيد کرتے ہوئے کہاکہ ڈالر کو رفتہ رفتہ عالمی تجارت سے باہر کر دینا چاہیے اور تدریجی طور پر یہ کام ممکن ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل المیعاد تعاون، دونوں ملکوں کے انتہائی مفاد میں ہے۔ تیل اور گیس کے شعبے سمیت مختلف میدانوں میں دونوں ملکوں کے درمیان متعدد سمجھوتے موجود ہیں جنھیں پوری طرح سے انجام تک پہنچانا اور عملی جامہ پہنانا چاہیے۔ انہوں نے ایران اور روس کے معاشی تعاون کو خاص طور پر مغرب کی پابندیوں کے بعد نہایت ضروری اور دونوں ملکوں کے مفاد میں بتایا اور یوکرین کے واقعات کے بارے میں کہا کہ جنگ ایک سخت اور تشدد والی چیز ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس بات سے کسی بھی صورت میں خوش نہیں ہوتا کہ عوام الناس جنگ میں پھنسیں لیکن یوکرین کے معاملے میں اگر آپ نے پہل نہ کی ہوتی تو فریق مقابل آگے بڑھ کر جنگ شروع کر دیتا۔
ولی امرمسلمین نے شام کے مسئلے کو بہت اہم بتایا اوراس پر فوجی حملے کی مخالفت اور اسے روکنے کی ضرورت پر مبنی اسلامی جمہوریہ کے موقف کا اعادہ کیا اورکہا کہ امریکیوں کا شام کے مشرقی فرات علاقے کے زرخیز اور تیل سے مالامال علاقوں پر غاصبانہ قبضہ ہے، اس مسئلے کو انھیں اس علاقے سے باہر نکال کر ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خطے کے معاملات میں صیہونی حکومت کی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے صیہونیوں کے خلاف روس کے صدر کے حالیہ موقف کی قدردانی کی۔


































