
تہران : تہران میں روس، ایران اور ترکی کا سربراہی اجلاس کامیابی سے ختم ہوگیا۔ آستانہ عمل کے بانی ممالک کے ساتویں سربراہی اجلاس میں شام کی صورتحال پر غور کیا گیا اور اجلاس کو شام کے بحران کے حل میں بہت موثر اور تعمیری قرار دیا۔ اجلاس کے بعد ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی، روسی صدر ولادیمیر پوتین اور ترک صدر رجب طیب اُردوان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر روسی صدر نے کہا کہ سربراہی اجلاس کا نتیجہ بہت اچھا اور مؤثر ہوگا اور یہ نہ صرف شام بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور سلامتی کو فروغ دے سکتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس پر عمل در آمد اور شام کی ارضی سالمیت کے تحفظ کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ شام کے مستقبل کا تعین شامی عوام کو ہی کرنا چاہئیے اور اس میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہئیے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہمارے مذاکرات کا نتیجہ بہت اچھا اور نتیجہ خیز ہوگا اور یہ شام کے علاوہ پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کا باعث ہو سکتا ہے۔ ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا کیونکہ شام کی خودمختاری ناقابل تسخیر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آستانہ عمل نے ایک کامیاب فریم ورک کے طور پر بحرانِ شام کے پرامن حل کے لیے اچھے نتائج حاصل کیے ہیں اور اس کا تحفظ اور ترقی بنیادی طور پر ضامن ممالک کی ذمہ داری ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے شام کے کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کے اپنے مؤقف کو زور دے کر دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی مسلح دہشت گرد کرد گروہوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گااور اس بات کی پروا نہیں کی جائے گی کہ کون سا ملک اس جنگ میں اس کی حمایت کرتا ہے۔ ہم روس اور ایران سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کی حمایت کریں گے۔ واضح رہے کہ ترکی نے کرد مسلح گروپوں کو دہشت گردقراردے رکھا ہے۔وہ شام سے تعلق رکھنے والے کرد ملیشیا وائی پی جی کو کالعدم کردستان ورکرزپارٹی (پی کے کے) کی اتحادی اور شاخ ہی قراردیتا ہے۔


































