
Oplus_16908288
تحریر: تصور حسین شہزاد
تاریخ ان سلطنتوں کا قبرستان ہے، جن کو یقین تھا کہ مضبوط ہونے کا مطلب ہے کہ انہیں شکست نہیں دی جا سکتی۔ جن کی انا نے ان کی صلاحیتوں کو بڑھاوا دیا ہوا تھا، جن کی پہنچ ان کی عقل سے بڑھ گئی تھی۔ روم اندر سے بوسیدہ ہو گیا تھا۔ عثمانیوں کا تختہ الٹ دیا گیا جبکہ وہ اب بھی طاقت کا مظاہرہ کر رہے تھے، جو ان کے پاس نہیں تھی۔ کئی دہائیوں سے واشنگٹن کی سٹریٹجک اشرافیہ نے یہ فرض کیا ہوا تھا کہ امریکی غلبے کا آخری باب بحیرہ جنوبی چین میں لکھا جائے گا، جو چین کے عروج سے طے ہوا ہے۔ وہ غلط تھے۔ اس کے بجائے، ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل جنگ نے ایک تیز تر فیصلہ سنا دیا ہے۔ مسلسل فوجی اور اقتصادی ذلت کے ذریعے، امریکہ ایک سپر پاور کے طور پر اپنی حیثیت کھو رہا ہے۔ جس چیز کا مقصد غلبہ کو دوبارہ قائم کرنا تھا، اس نے بجائے امریکہ کا دبدبہ بڑھانے کے، اس کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔
فیصلہ کن تھیٹر مشرقی ایشیا نہیں بلکہ خلیج ہے، جہاں ایران، امریکی زوال کی شرائط کو ڈکٹیٹ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سپر پاورز شاذ و نادر ہی کسی ایک شکست سے گرتی ہیں، لیکن اہم چوکیوں پر کنٹرول کھونے سے اس کی صلاحیتیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ برطانیہ نے یہ 1956 میں سیکھ لیا تھا، جب اس نے نہر سوئیز پر اپنا کنٹرول کھو دیا، جس سے عالمی تجارت کو تشکیل دینے کی اس کی صلاحیت کے خاتمے اور اس کی سلطنت کے خاتمے کا آغاز ہوا۔ اس کے برعکس، امریکہ کا عروج 1974 کے پیٹرو ڈالر منصوبے پر تھا، جس نے تیل کی عالمی تجارت کو ڈالر سے جوڑ دیا اور واشنگٹن کو کریڈٹ پر فوجی طاقت کی مالی اعانت کرنے کے قابل بنایا۔ وہ بنیاد اب آبنائے ہرمز میں ٹوٹ چکی ہے۔ اس راہداری پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے، ایران نے عالمی توانائی کے ایک اہم حصے کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مزید نتیجے میں، اس نے چینی یوآن سمیت متبادل کرنسیوں میں لین دین کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
جب توانائی ڈالر میں بہنا بند ہو جاتی ہے، تو امریکی عالمی طاقت کے پیچھے موجود مالیاتی انجن ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ حالیہ جنگ میں ایرانی اقدامات سے امریکہ کی فوجی جہت کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ حالیہ جنگ نے امریکہ کے جدید ترین نظاموں کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حساس اہداف پر کامیاب حملوں کے ساتھ تباہ شدہ اور گرائے گئے طیاروں کی رپورٹس بشمول ایف 35، ایف 15 اور ایف سولہ نے کچھ ایسا کیا ہے، جس کا تقریباً تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ایرانیوں نے امریکی تکنیک ناقابل تسخیر ہونے کے افسانے کی بھی ہوا نکال دی ہے۔ وہ ہتھیار جو کبھی اچھوت کے طور پر دنیا کو بیچا جاتا تھا، اب ایران جیسی ایک بڑی علاقائی طاقت کے خلاف کمزور دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ ایران نے غیر متناسب جنگ کے فن میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ اس جنگ میں ہونیوالے امریکہ کے ان نقصانات نے واشنگٹن کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کیلئے آمادہ ہو، کل تک ایران کو جہنم بنانے کی دھمکیاں دینے والا ٹرمپ، آج ایران کے مطالبات کو تسلیم کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
یہ امریکی اتحادیوں کے لیے بھی بلاشبہ ایک پیغام ہے کہ اب امریکی چھتری اتنی محفوظ نہیں رہی کہ اس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا دفاع امریکہ کے ہاتھ دے دیا جائے۔ اب عرب میں دوسرے پہلو کو دیکھ کر سوچ رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ کیساتھ دفاعی معاہدے ختم کر دیئے جائیں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ جنگ کا معاشی بوجھ امریکہ کے زوال کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مسلسل آپریشنز کی لاگت، عالمی شپنگ کے لیے بڑھتی ہوئی انشورنس پریمیم اور توانائی کی منڈیوں میں رکاوٹیں، امریکہ پر ساختی دباؤ کو مسلط کر رہی ہیں۔ جنگی اخراجات تیزی سے ملکی ترجیحات کا مقابلہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ڈالر کے غلبے کے مالی فوائد کمزور ہونے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ فوجی طاقت، جو کبھی معاشی بالادستی کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی تھی، اب وہ بھی منافع نہیں دے پا رہی۔
جب ایک سپر پاور اپنے اہم تجارتی راستوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی، اپنی کرنسی کی بالادستی کی حفاظت نہیں کر سکتی اور اپنے فوجی اثاثوں کو مسلسل حملے سے نہیں بچا سکتی تو سمجھ جانا چاہیئے کہ کھیل بدل رہا ہے۔ امریکہ اب ان تینوں دباؤ کا بیک وقت سامنا کر رہا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش، ڈالر کی بے قدری اور امریکی اڈوں کو راکھ کا ڈھیر بنا کر دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکہ کا رعب مصنوعی تھا۔ اور اس جنگ میں اس مصنوعی رعب و دبدبہ کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ اس جنگ سے امریکی وقار، تسلط کی غیر مرئی کرنسی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ علاقائی اداکاروں نے اب زیادہ اعتماد کے ساتھ کام کیا اور ٹرمپ نے ناکامی کا طوق گلے میں پہن کر جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ کل تک دھمکیاں دینے والا ٹرمپ آج ایران کے مطالبات تسلیم کرنے کیلئے آمادہ ہو چکا ہے، جس پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے امریکہ ’’سپرمیسی‘‘ کو آبنائے ہرمز میں غرق کر دیا ہے۔


































