
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
موجودہ حالات میں عالمی سیاست ایک مرکزی موضوع بن چکا ہے اور دنیا میں ہر فرد ہی اس پر خاص نکتہ نظر رکھتا ہے۔ اس مقالہ میں خاص طور پر پاکستان کے بارے میں نقطہ نظر پیش کیا جا رہاہے کہ پاکستان کے عوام اور خاص طور پر ایسا طبقہ جو سوشل میڈیا پر فعال نظر آتا ہے وہ کس طرح فکری کمزوری کا شکار ہے۔ عالمی سیاست کا موضوع خاص طور پر پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک میں 7 اکتوبر 2023ء کے بعد زیادہ زور پکڑ چکا ہے۔ طوفان اقصیٰ کا آغاز او ر پھر امریکہ و اسرائیل کی جانب سے غزہ و لبنان میں منظم نشل کشی، یمن و ایران پر متواتر حملے اور ایران پر مسلسل دو جنگوں کا مسلط ہونا۔ ان تمام واقعات نے دنیا میں عالمی سیاست کے موضوع کو مزید اہمیت دے دی ہے۔
دنیا میں بسنے والا ہر انسان ہی ان جنگوں سے کسی نہ کسی طرح براہ راست یا بالواسطہ متاثر ہو رہاہے۔ اسی ثر کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ عالمی سیاست کی بنیادی تھیوریز سے نابلد افراد جو کہ سوشل میڈیا پر موثر ہیں وہ بھی ان حالات کو اپنے اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ بیانیہ کی اس جنگ میں یہ تمام افراد جو عالمی سیاسی اصولوں سے نابلد ہیں نادانستہ طور پر دشمن کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک تو شاید دانستہ ان کاموں کو انجام دیتے ہیں تا کہ اصل حقائق کو مبہم کر دیا جائے اور دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے جنگی جرائم کی کسی طرح پردہ پوشی کی جائے۔
بہرحال خلاصہ یہ ہے کہ دانستہ اور نادانستہ دونوں ہی دشمن کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور حق کو چھپانے کی مکمل کوشش کی جاتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا مشاہدہ عین اس وقت کیا گیا جب پاکستان کے سوشل میڈیا پر 7 اکتوبر 2023ء کے بعد طوفان اقصیٰ اور فلسطینی عوام کی کامیابیوں کو بیان کرنے کی بجائے مخصوص طبقہ موثر انداز میں سوشل میڈیا پر فلسطینیوں پر ہی سوال اٹھاتا نظر آیا۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے طبقات نے بھرپور دفاع کیا اور اسرائیلی حمایت یافتہ بیانیہ کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی کی بات نہ کرتے ہوئے مخصوص طبقہ اسرائیل کو مظلوم بنانے پر تلا رہا۔
ایک معروف بلاگر رعایت اللہ فاروقی نے بیانیہ کی تعریف لکھتے ہوئے بیان کیا کہ کسی خاص سیاسی یا عسکری ہدف کے حصول کے لئے تراشا گیا وہ موقف جس کا سچ یا درست ہونا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ میں یہاں پر یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اطلاعات کی فراوانی نے جہاں آگاہی کے دروازے کھولے ہیں، وہیں غلط معلومات اور پروپیگنڈا بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی سمجھ سے بھی محروم ہے۔ کوئی بھی مغربی شخصیت اگر یکطرفہ یا حتیٰ کہ غلط مؤقف بھی پیش کرے تو اسے بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جاتا ہے اور پھر اسی بیانیے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلایا جاتا ہے۔ یوں نادانستہ طور پر ہم بیرونی طاقتوں کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہوتے ہیں۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر آج ہمیں اسی مسئلہ کا سامنا ہے۔ اب چاہے مسئلہ فلسطین میں ہونے والی نسل کشی کا ہو، لبنان میں امریکی حمایت سے جاری اسرائیلی جارحیت ہو یا پھر یمن میں اسرائیل کی مسلسل بمباری اور اسکے نتیجہ میں وزیر اعظم سمیت کابینہ اور سیکڑوں لوگوں کی شہادت کا ہو اور حال ہی میں اب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ کا ہو۔ اسی طرح ایک مسئلہ اور بھی اس میں شامل کر لیا جائے کہ جو پاکستان سے متعلق ہے کہ افواج پاکستان کے خلاف مسلسل متنازعہ بیانیہ جس کا مقصد افواج پاکستان کو کمزور کرنا اور مورال ڈاؤن کرنا ہے۔ یہ سب دشمن کے وہ ہتھکنڈے ہیں جس کی مدد سے حقائق کو پس پرد ڈال کر کسی خاص مقصد کو اجاگر کر دیا جاتا ہے کہ چاہے وہ حقیقت ہو یا نہ ہو۔
حالیہ مخصوص حالات میں کہ جب ایک مرتبہ امریکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان میں ایران اور امریکہ جنگ بندی مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستان مسلسل اس میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ خطے میں مزید جنگ نہ پھیلے لیکن امریکہ نے گزشتہ مذاکرات میں ہمیشہ کی طرح دھوکہ دہی سے کام لیا اور عین مزاکرات کے دوران د جنگی کشتیاں مائین سوئیپر کو آبنائے ہرمزمیں بھیجا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہونا شروع ہوئی اور پھر اسی طرح جو مزاکرات کا فریم ورک ٹرمپ نے تسلیم کیا تھا اس سے بھی رو گردانی کر لی گئی۔
یہ بات بالکل درست ہے کہ عالمی سیاست ہمیشہ سے طاقت، مفادات اور حکمتِ عملی کے گرد گھومتی رہی ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اس حساس موضوع کو اکثر جذبات، تعصبات اور سطحی معلومات کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالیہ حالات میں امریکی صدر کے اقدامات نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی میں کسی بھی ملک کے جذبات یا دوستی کو نہیں بلکہ صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہونا اسی پالیسی کا تسلسل ہے، نہ کہ کوئی غیر معمولی واقعہ۔ ایسے نازک وقت میں جہاں خطہ ایک اہم سفارتی اور اسٹریٹجک موڑ پر کھڑا ہے، پاکستان کے سوشل میڈیا پر سرگرم نام نہاد تجزیہ کار اور خود ساختہ صحافی ایک غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔
ایران جیسے خودمختار ملک کے معاملات پر نہ صرف رائے زنی کی جا رہی ہے بلکہ اسے ایک مخصوص بیانیے کے تحت دباؤ میں لانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اصولی طور پر ایران کے فیصلے ایرانی عوام اور اس کی قیادت کا حق ہیں۔ ان سوشل میڈیا کے تجزیہ کاروں اور نام نہاد دانشوروں کو چاہیئے کہ عالمی سیاست کی تھوڑی الف ب پڑھ لیں اور پاکستان کے کردار کو اس تمام صورتحال میں ایک ثالث کا کردار رہنے دیں جو عالمی قوانین میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک ایسا ملک جو کشیدگی کو کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور خطے میں استحکام لانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ امریکہ اور خاص طور پر ٹرمپ کی کی محبت میں اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ وہ نہ صرف زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہا ہے بلکہ اپنے ہی خطے کے ممالک کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہے۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایران کے حوالے سے حالیہ تنقید کرنے والوں کو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ بین الاقوامی سیاست سوشل میڈیا مہمات سے نہیں چلتی۔ ایران ایک مضبوط ریاست ہے جس نے دہائیوں سے عالمی دباؤ خاص طور پر امریکہ کا سامنا کیا ہے اور اس کے باوجود اپنی پالیسیوں پر قائم رہا ہے۔ اگر کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ چند ٹویٹس یا فیس بک پوسٹس کے ذریعے ایران کو اس کے مؤقف سے پیچھے ہٹایا جا سکتا ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔
مزید برآں، یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک طرف امریکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے میں ایران پر دباؤ ڈالے، اس کی معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کرے اور دوسری طرف مذاکرات کی بات بھی کرے، کیا یہ واقعی ایک سنجیدہ اور منصفانہ سفارتی رویہ ہے؟ یا یہ محض دباؤ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی ہے؟ ایسے سوالات پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے، نہ کہ جذباتی نعروں کی۔پاکستان کو اس تمام صورتحال میں نہایت توازن اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہم اس تنازع کے فریق نہیں بلکہ ایک ممکنہ ثالث ہیں۔ ہمارا اصل مفاد خطے میں امن، استحکام اور متوازن تعلقات میں ہے، نہ کہ کسی ایک طاقت کے بیانیے کو اپنانے میں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں رائے سازی کو سنجیدگی، تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ جوڑا جائے۔ سوشل میڈیا پر موجود منظم گروہوں کو چاہیے کہ وہ مخصوص ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنانے کے بجائے بین الاقوامی سیاسیات کی بنیادی سمجھ حاصل کریں۔ کیونکہ جب قومیں اپنی رائے کی بنیاد علم کے بجائے جذبات پر رکھتی ہیں تو وہ نہ صرف خود نقصان اٹھاتی ہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو بھی داؤ پر لگا دیتی ہیں۔ایسے تمام عناصر کی سرکوبی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔


































