ایک دوست ملک کو لگا کہ کوالالمپور سمٹ امت کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے جو کہ غلط تھا،، ہمیں چاہیے امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے خلاف مل کر جدوجہد کریں
ہم مسلم ممالک تو کشمیر پر او آئی سی کا ایک سربراہ اجلاس تک نہیں بْلاسکے، مسلمان 130 کروڑ ہونے کے باوجود بد ترین دور سے گزر رہے ہیں،کوالالمپور میں خطاب
کوالالمپور(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوالالمپورسمٹ میں شرکت نہ کر کے افسوس ہے، ہمارے ایک دوست ملک کو لگا کہ کوالالمپور سمٹ امت کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے جو کہ غلط تھا، اب دوست ممالک کے خدشات ختم ہوگئے ہیں، میں اگلے سال کوالالمپورکانفرنس میں ضرورشرکت کروں گا اور اس سے دیگرممالک کے ساتھ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، پاکستان اپنے دیگر فریقین کے ساتھ ٹی وی چینل سمیت دیگر منصوبوں پرمل کر کام کریگا، ہمیں چاہیے اسلاموفوبیا اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے خلاف مل کر جدوجہد کریں،وزیرِ اعظم عمران خان نے کشمیریوں کے لیے کوئی کردار ادا نہ کرنے پر اسلامی تعاون تنظیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ملائیشین تھنک ٹینک سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ ہم مسلم ممالک تو کشمیر پر او آئی سی کا ایک سربراہ اجلاس تک نہیں بْلاسکے، کشمیری اور روہنگیا مسلمانوں کو صرف ان کے مذہب کی وجہ سے ریاستی جبر کا سامنا ہے، پوری دنیا میں ایک کروڑ سے کچھ زائد یہودی ہیں، لیکن مغربی دنیا میں یہودیوں کیخلاف کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا، مسلمان 130 کروڑ ہونے کے باوجود بد ترین دور سے گزر رہے ہیں کیونکہ ان کی کوئی آواز نہیں، مسلمانوں کے مسئلے کا حل یہی ہے کہ ان کی ایک نمائندہ آواز ہو، ہم امت کا اتحاد اس لیے نہیں چاہتے کہ ہمیں کسی سے جنگ کرنی ہے۔
- Home
- خبریں
- قومی خبریں
- ملائشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرنا غلط تھا، آئندہ جاؤں…
ملائشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرنا غلط تھا، آئندہ جاؤں گا(عمران خان)
-
Ilyas - فروری 7, 2020
- قومی خبریں
- 20
- 0 minute read


































