
تحریر: سید ثاقب اکبر
ویسے تو امام خمینی نے بہت سے شعبوں میں اثرات مرتب کیسے ہیں، لیکن ان کا ایک عظیم کام سیاست میں نئی طرح ڈالنا اور ایک دنیا کو اس کے زیر اثر لانا ہے۔ ولایت فقیہ کا نظریہ کتب سے نکال کر اچھوتا نظام حکومت تشکیل دینا ان کا عظیم الشان کارنامہ ہے۔ ابھی تک دنیا اسے سمجھنے اور سمجھانے میں مصروف ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں ایک عالم ربانی، مدیر، مدبر، شجاع اور زمان و مکان سے آگاہ اس نظام کا سرپرست ہے۔ امام خمینی نے سیاست میں نئی اصطلاحات متعارف کروائیں۔ یہ اصطلاحات بیشتر پہلے سے دینی لٹریچر میں موجود تھیں۔ امام خمینی نے انھیں وہاں سے نکالا اور اس طرح سے برتا کہ وہ طاقتور اصطلاحات بن گئیں۔ ان میں مستضعفین اور مستکبرین کی اصطلاحات شامل ہیں۔ مستضعفین یعنی جنھیں زمین پر کمزور کر دیا گیا ہے۔ مستکبرین یعنی ان مستضعفین کا استحصال کرنے والے اور اپنی بڑائی کو پوری دنیا میں ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کا ظلم کرنے والے۔ محرومین، گردن کلفتھا، پابرہنہ کی اصطلاحات بھی آپ نے استعمال کی ہیں۔ امام خمینی نے متعدد بار اپنے ہی ملک کے ظالم سرمایہ داروں کے خلاف تقریریں کیں۔
لا شرقیہ ولا غربیہ کی اصطلاح بھی امام خمینی نے قرآن سے اخذ کرکے متعارف کروائی۔ اس وقت دنیا دو قطبوں میں تقسیم تھی۔ ہماری دنیا میں اکثر ممالک ایک استعماری طاقت جس کا سربراہ امریکہ تھا یا مشرق میں سوویت یونین سے وابستہ تھے۔ امام خمینی نے اعلان کیا کہ ہم کسی سے وابستگی اختیار نہیں کریں گے، آزاد رہیں گے۔ ہم کسی استعماری طاقت کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔ اس دور میں حقیقی طور پر غیر جانبداری ایک مشکل کام سمجھا جاتا تھا، لیکن امام خمینی نے یہ کام کرکے دکھا دیا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے شہ دروازے پر آج بھی جلی حروف میں لکھا ہے ’’لا شرقیہ ولا غربیہ جمہوری اسلامیہ‘‘ نہ شرقی نہ غربی بلکہ جمہوری اسلامی۔ عالمی سیاست میں ایک طرح سے یہ بھی ایک منفرد اصطلاح تھی۔
اس نظام حکومت میں داخلی نظام کا جو ڈھانچہ تشکیل دیا گیا، وہ مختلف متوازی طاقتور اداروں پر مشتمل تھا۔ مجلس خبر کان جس کا کام ولی فقیہ کا انتخاب ہے اور جو عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے، فقہا اور مجتہدین پر مشتمل ہے۔ پارلیمان عوام کے براہ راست ووٹوں سے تشکیل پاتی ہے۔ پارلیمان بہت ہی موثر ادارہ ہے۔ ہر وزیر کا الگ انتخاب کرتی ہے۔ انتخاب سے پہلے نامزد وزیر کو پارلیمان کے سامنے پیش ہو کر متعلقہ وزارت سے متعلق اپنی علمی و عملی قابلیت ثابت کرنی ہوتی ہے، نیز یہ ادارہ کسی بھی وقت کسی بھی وزیر کو جوابدہی کے لیے طلب کرسکتا ہے۔ اس ادارے کے اجلاس بڑے منظم طریقے سے جاری رہتے ہیں۔ جب سے یہ ادارہ وجود میں آیا ہے، اس وقت سے فقط ایک مرتبہ اس کے چند اراکین نے اس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ حیران کن ہے کہ چالس سے زیادہ برس ہونے کے باوجود یہ شوریٰ بڑے منظم انداز سے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
عام طور پر پارلیمنٹ کے پچاس فیصد سے زیادہ اراکین پی ایچ ڈی اسکالرز اور فقہاء ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ سے چھٹی لینے اور غیر حاضر رہنے کا بڑا مضبوط نظام ہے۔ شوریٰ نگہبان بھی ایرانی نظام کا ایک منفرد ادارہ ہے۔ اس میں نصف اراکین قانون و آئین کے ماہرین جبکہ نصف فقہاء ہوتے ہیں۔ یہ ادارہ قانون سازی نہیں کرتا بلکہ پارلیمان کے منظور شدہ قوانین کا جائزہ لیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کوئی بھی مجوزہ قانون اسلامی شریعت یا دینی تعلیمات کے کسی پہلو سے منافی تو نہیں یاکیا، یہ قانون اور آئین کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اگر شوریٰ نگہبان اس قانون یا شق کی تائید کر دے تو یہ نافذ ہو جاتاہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو شوریٰ پارلیمان کو نظرثانی کے لیے کہہ سکتی ہے۔ اس کے ماہرین آئین پارلیمان کی تائید سے منتخب ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


































