
بچوں کو کیسے گھر کے کام میں رغبت دلائی جائے؟
*تجربہ:
کچھ دن پہلے رات میں ہمارے گھر دعوت تھی۔ دن بھر گھر صاف ہوتا دوبارہ پھیلتا۔ رات میں مہمانوں کے آنے سے پہلے میں نے بچوں سے چند بار کہا گھر سمیٹ لو لیکن کسی نے نہیں سنا۔ کچھ دیر بعد ان کے بابا آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب بچے تفصیلی گھر سمیٹنے میں مصروف ہوگئے۔
میں نے اپنے میاں سے کہا بچے میری تو بات ہی نہیں مانتے۔صرف آپ ہی کی مانتے ہیں۔ اس کا راز کیا ہے؟ آپ کیسے کہتے ہیں انہیں؟
انہوں نے کہا: میں نے بھی جب ان سے شروع میں کہا اٹھو صاف کرو تو کوئی نہیں اٹھا لیکن میں نے ایک ٹکنیک استعمال کی۔
میرے کان کھڑے ہوگئے۔ کونسی ٹکنیک؟
میں خود کھڑا ہوا ایک دو چیزیں اٹھائیں اپنی جگہ رکھیں، بیٹی سے کہا یہ گلاس کچن لے جاؤ دوسرے سے کہا یہ تکیہ اپنی جگہ رکھو ان کو ایک ایک کام بتاتے گیا اور ساتھ میں خود بھی کرتے گیا۔تو دیکھتے ہی دیکھتے گھر سمٹ گیا۔ کلی طور پر بولنے سے یہ لوگ نہیں سنتے ان کو ایک مخصوص چیز دکھاؤ جیسے ہی وہ کر لیں تو اگلا کام بتاؤ۔
پھر اچانک مجھے یاد آیا میری امی بھی یہ ٹیکنیک بہت استعمال کرتی تھیں مثلا کہتیں، بیٹا دیگچی میں تھوڑا تیل ڈالنا۔ میرے جاکے تیل ڈالنے تک پیچھے سے آواز آتی، اب ایک پیاز بھی کاٹ کے ڈال دو۔ تو میں سوچتی چلو ایک پیاز ہی تو ہے وہ بھی ڈال دوں، پھر کہتیں پیاز جل نہ جائیں وہیں تھوڑی دیر کھڑی رہو اور ٹماٹر کاٹ لو۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے اس دن کا کھانا ہمارے ہاتھوں بن جاتا۔
کلی طور پر کہنے سے بچے کو بات مبہم لگتی ہے ۔سمیٹیں تو کیا سمیٹیں کیا کریں لیکن ایک ایک ایک چیز بتانے سے بات واضح ہو جاتی ہے۔
اس کا دوسرا فلسفہ یہ ہے کہ کام کو چھوٹے چھوٹے قدم میں بتایا جائے تو آسان لگتا ہے جبکہ کلی طور پر اگر کہا جائے کام مشکل لگتا ہے اور کرنے کا دل نہیں چاہتا۔


































