
تحریر: علی واحدی
ایک کرد علیحدگی پسند گروپ نے حال ہی میں ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایرانی حملوں کے خلاف ان کی حمایت نہ کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔ بیان کے ایک حصے میں کہا گیا ہے کہ "یہ مناسب نہیں ہے کہ امریکہ جنگ کے وقت کردوں اور پیشمرگہ کو اتحادی سمجھے اور ٹرمپ اس وقت بڑی محبت کا مظاہرہ کرے، لیکن جب جنگ بندی کے بعد تہران اور عراقی گروپوں کی طرف سے ہم پر میزائل اور ڈرون حملے ہوں تو ٹرمپ صرف ایک مبصر اور تماشائی کا کردار ادا کرے۔ یہ بیان ایسے وقت جاری کیا گیا، جب علیحدگی پسند اور دہشت گرد کرد گروپ اس سے قبل امریکہ سے فوجی امداد اور حمایت حاصل کرنے کی سختی سے تردید کرچکے ہیں۔ اگرچہ جنوری کی بدامنی کے دوران کرد علیحدگی پسند گروپوں کو ہتھیار اور مالی مدد فراہم کرنے کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات نے انکار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔
اب تو علیحدگی پسندوں نے رشوت لینے اور 100 ملین ڈالر کے غبن کا اعتراف کیا۔ اس مسئلے کے بارے میں اور علیحدگی پسندوں کی طرف سے امریکی امداد چوری کرنے کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے، سکیورٹی ماہر مرتضیٰ سمیاری نے کہا ہے کہ کرد علیحدگی پسند گروپ نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے حاصل کردہ رقم میں غبن کیا ہے۔ جنگ کے شروع ہونے والے مہینے میں ان گروپوں کو جو 100 ملین ڈالر دیئے گئے تھے، ان میں سے تقریباً 80 فیصد کی رقم سے گاڑیاں اور کاریں ان گروپوں کے لیے خریدی گئیں، جبکہ بقیہ بجٹ ہتھیاروں پر خرچ کیا گیا تھا، جنہیں آئی آر جی سی یعنی سپاہ پاسداران نے تباہ کر دیا تھا۔
دہشتگردوں کے آپریشن روم کا خاتمہ
ماہر سیاسیات سمیاری نے علیحدگی پسند گروپوں کی میدانی صورتحال کو تباہ کن قرار دیا اور کہا کہ آج کردستان کے علاقے میں زمین پر آپریشن روم نہیں ہے۔ تمام دہشت گرد غاروں اور پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ ان کی سرنگیں اور اسلحہ ڈپو مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔ سپاہ پاسداران کی بروقت کارروائی سے ایران میں امریکہ اور اسرائیل کا عدم تحفظ پیدا کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ اس سکیورٹی ماہر نے اس بات پر زور دیا کہ "رمضان جنگ” کے دوران ایران کے شمال مغرب اور جنوب مشرق سے ایک "عدم تحفظ کوریڈور” بنانے کا مشترکہ امریکی اور اسرائیلی منصوبہ تیار کیا گیا تھا، لیکن IRGC کی زمینی افواج اور شہید پاکپور کی کمانڈ کی چوبیس گھنٹے کی کوششوں سے دہشت گرد ایرانی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
جناب سمیاری نے ملک کی سرحدوں کے ارد گرد دہشت گرد گروہوں سے خطاب کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ تاریخ سے سبق حاصل کریں۔ دیکھیں ٹرمپ نے شام میں کردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور جولانی کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ امریکی آپ کردوں کو ڈسپوزایبل سمجھتے ہیں اور آپ کا یہ بیان تاریخ کے کوڑے دان میں جانے کی مثال ہے۔ بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اس بیان نے نہ صرف علیحدگی پسند گروپوں کی نااہلی کو ظاہر کیا بلکہ سرکاری طور پر یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ کرائے کے فوجیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہیں، جنہیں امریکہ کی ضرورت ختم ہونے کے بعد تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔


































