
خدا کے کمال کو سمجھنے کے لیے، پہلے ہمیں اپنے ناقص ہونے کو دیکھنا اور سمجھنا پڑے گا۔ میری بچی، چند سوالات سے آپ میری مراد بخوبی سمجھ جائیں گی۔
میرے پیاری بیٹی! بتاؤ کیا ہم زمین کی حرکت کو کنٹرول کر سکتے ہیں؟ کیا ہم چیونٹی بنا سکتے ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ اگلے سو سالوں میں کیا ہو گا؟ کیا ہم کھائے پیئے بغیر ایک سال زندہ رہ سکتے ہیں؟ کیا ہم ایک سال مسلسل جاگ سکتے ہیں؟ کیا ہم مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں؟ کیا ہم دن کو رات اور رات کو دن بنا سکتے ہیں؟
ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ نہیں، ہم یہ کام نہیں کر سکتے کیونکہ ہم بہت ساری چیزوں میں محتاج ہیں، ہماری طاقت خدا کی طاقت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارا علم خدا کے علم کے مقابلے میں سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے۔
ہم کمزور اور محتاج مخلوق ہیں۔ حتی ہمارا نطام شمسی اس پوری کائنات کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔ ہم سب انسانوں کو ہر وقت کسی نہ کسی چیز کی ضرورت ہے، ہمیں زندہ رہنے کے لیے خوراک، ہوا اور پانی کی ضرورت ہے، یہ ضروریات ظاہر کرتی ہیں کہ ہم نامکمل اور ضعیف ہیں۔
کامل وہ ہے جسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور اس کا علم اور طاقت بہت زیادہ ہے۔ کامل ترین ذات خداوند عالم کی ہے.
سورہ (قل ھو اللہ ) میں فرمایا گیا ہے: اللہ تعالی ہر چیز سےبے نیاز ہے،
اگر خدا بے نیاز ( یعنی جسکو کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی) نہ ہوتا تو
اسے دوسروں کے علم اور طاقت کی ضرورت ہوتی لیکن چونکہ یہ کامل ہے اس لیے اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔
اللہ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، وہ علم و قدرت حتی اپنی ہر صفت میں کامل و اکمل ہے اور تمام عیبوں سے پاک ہے۔


































