
عمل کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے۔
آیت الله حائری شیرازی
فٹبال میں گول
جب کسی شخص سے کوئی اچھا کام سرزد ہوجائے، تو اسے خود کو مقروض سمجھا چاہیے نہ قرض خواہ۔
مثال کے طور پر، آپ فٹ بال کھیل رہے ہیں اور مخالف ٹیم کے گول پوسٹ کے قریب ہیں۔ دوسری طرف سے، آپ کے ساتھی مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کے پاؤں کے نیچے سے گیند لے کر آپ کے پیروں کے سامنے پھینک دیتے ہیں، اور آپ اسے گول میں بدل دیتے ہیں۔ پھر وہ آپ کو ہاتھ پر اٹھا کر خوشی مناتے ہیں اور سب کو بتاتے ہیں کہ اس نے یہ گول کیا ہے۔
آپ اپنے ضمیر سے کہتے ہیں کہ انہوں نے محنت کی اور گیند میرے پاؤں کے سامنے پھینکی۔ میں گول پوسٹ کے قریب تھا اور میں نے گول کردیا۔ لہذٰا مجھے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
اسی طرح اللہ زمین کی دوسری طرف سے گیند(نیکی کی توفیق) کو انسان کے پاؤں کے قریب لاتا ہے، انسان شوٹ کرتا ہے اور گوووول….، پھر خدا گول کرنے والے انسان کے ہاتھ کو بلند کرتا ہے۔ لیکن انسان خود جانتا ہے کہ یہ اصل میں خدا کی طرف سے ہے۔
ہمارے آئمہ علیہم السلام بھی ایسے تھے۔ ان کی دعائیں جو ہم تک پہنچی ہیں گویا ایسا ذکر ہے(مفہوم) "اے خدا میں نے جو بھی عمل انجام دیا تو نے میری مدد کی، (تو نے گیند پاس دی اور میں نے گول کیا) تو نے زمینہ فراہم کیا اور آخر میں میرے نام سے درج ہوا۔ کیوں میرے نام سے؟ اصل کام تو تو نے کیا، نہ میں نے”
ہمارے آئمہ (ع) ایسے تھے۔ ہمیں خدا سے ہمکلام ہونے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ خدا کو بھی ایسا پسند ہے۔ لہذٰا انسان سے کوئی اچھا کام سر زد ہو تو کہے هَذَا مِن فَضلِ رَبّی ( یہ میرے رب کا فضل ہے)
کتاب: تمثیلات اخلاقی تربیتی


































