
Oplus_16908288
تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ ان سمندری راستوں کی طرف مبذول کر دی ہے جو عالمی معیشت کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز دراصل ایک ایسی مربوط تجارتی زنجیر کے حصے ہیں جہاں کسی ایک مقام پر پیدا ہونے والا بحران دوسرے مقامات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حقیقت سے واضح ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی یا رکاوٹ نہ صرف توانائی کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی بے یقینی پیدا کرتی ہے۔ اس کے اثرات خاص طور پر ان معیشتوں پر زیادہ ہوتے ہیں جو درآمدی توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔
یہ بحران اگر آگے بڑھتا ہے تو اس کا اگلا اہم مرحلہ ”باب المندب“ ہوگا جو ”بحیرہ احمر“ کا داخلی دروازہ ہے۔ اس علاقے میں پہلے ہی جغرافیائی اور سیاسی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ مزید کسی بھی نئی کشیدگی سے جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً جہازوں کی آمدورفت سست پڑ سکتی ہے یا متبادل راستے اختیار کیے جا سکتے ہیں جو لاگت اور وقت دونوں میں اضافے کا سبب بنیں گے۔ ”نہر سویز“ اس پوری زنجیر کا ایک نہایت اہم حصہ ہے جو ایشیا اور یورپ کے درمیان سب سے مختصر بحری راستہ فراہم کرتی ہے۔ یہ نہر نہ صرف عالمی تجارت کے لیے اہم ہے بلکہ مصر کی معیشت کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نہر سے حاصل ہونے والی آمدنی مصر کے زرِ مبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہے جو اس کے مالی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
اگر ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی کے باعث نہر سویز سے گزرنے والی تجارت متاثر ہوتی ہے تو مصر کو براہِ راست معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، کرنسی کی قدر متاثر ہو سکتی ہے، مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عوامی سطح پر معاشی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ یہ تمام عوامل کسی بھی معاشرے میں بے چینی کو جنم دینے کے لیے کافی ہیں۔ مصر اس وقت ایک پیچیدہ معاشی، سماجی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کی مشکلات ایک ہی شعبے تک محدود نہیں بلکہ کئی عوامل مل کر ایک “پریشر سسٹم” بنا رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہرمز میں کشیدگی مصر کے لیے ایک ایسا ”بالواسطہ خطرہ“ پیدا کرے گی جس کے نتیجے میں کسی سیاسی تبدیلی کا امکان بھی ہے۔
جب ہرمز دہکے گا تو سویز صرف پانی نہیں بلکہ آگ بھی بہا سکتا ہے۔ دنیا کے نقشے پر کچھ مقامات ایسے ہیں جو بظاہر صرف پانی کے راستے ہیں مگر حقیقت میں وہ طاقت، دولت اور سیاست کی شہ رگیں ہیں۔ اگر ہرمز میں جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو یہ محض ایک سمندری تنازع نہیں ہوگا بلکہ یہ عالمی معیشت کے دل پر ضرب ہوگی، تیل کی سپلائی رک جائے گی، قیمتیں بے قابو ہو جائیں گی اور دنیا کی بڑی معیشتیں ہل کر رہ جائیں گی۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ ہرمز میں کیا ہوگا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ یہ بحران ایک لہر کی طرح آگے بڑھے گا اور اس کا پہلا بڑا شکار ”باب المندب“ ہوگا۔ یہاں پہلے ہی بارود بچھا ہوا ہے۔ صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہے۔ اگر یہاں جہاز رانی غیر محفوظ ہوگئی تو دنیا کی تجارتی نبض سست پڑ جائے گی اور پھر ساری نظریں ایک ہی مقام پر آ کر ٹھہر جائیں گی اور وہ ہے ”نہر سویز“۔
یہ نہر صرف پانی کا راستہ نہیں بلکہ یہ عالمی نظام کی دھڑکن ہے۔ اگر یہ دھڑکن سست پڑ گئی تو اس سے یورپ کی معیشت پر دباؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ایشیا کی برآمدات متاثر ہوں گی اور عالمی سپلائی چین ٹوٹنے لگے گی اور ان سب کے بیچ کھڑا ہوگا ”مصر“۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب معیشت کمزور ہوتی ہے تو سیاست زیادہ دیر مضبوط نہیں رہتی۔ ہرمز میں اٹھنے والی ہر لہر بالآخر سویز کے کناروں سے ٹکرا کر سیاسی طوفان بن سکتی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ طاقت کا ایسا کھیل ہے جس میں اگر ایک مہرہ ہلتا ہے تو پوری بساط بدل سکتی ہے۔


































