
تحریر: محمد پایانی
امریکہ نے چھ ماہ سے ایران کے خلاف بھرپور جنگ کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس دوران امریکہ نے کئی بار ایران کے خلاف فوجی جارحیت انجام دی اور ایران نے بھی اس کا بھرپور دندان شکن جواب دے ڈالا۔ اب جب امریکی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ وہ جنگ اور فوجی جارحیت کے ذریعے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے سے عاجز ہیں تو انہوں نے پینترا بدلتے ہوئے ایران کے خلاف اپنے بقول شدید ترین معاشی جنگ شروع کر دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ کی سب سے بڑی معاشی جنگ ہے جس کا مقصد محض ایران کے مالی ذرائع محدود کرنا نہیں بلکہ طاقت کی مساوات تبدیل کرنا اور تہران کو واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ مطالبات قبول کرنے پر مجبور کر دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام نے اسے ایسی معاشی جنگ قرار دیا ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
اس مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی حکومت کی حکمت عملی کا بنیادی ترین مقصد ایران کو معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔ اس اہم ترین مقصد کے ذریعے امریکہ دیگر مقاصد حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے جن میں مذاکرات کی ٹیبل پر ایران کے پاس موجود کارڈز ختم کرنا، ایران کی تیل کی برآمدات کو کم کرنا، ایران پر معاشی دباو ڈالنا اور آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ختم کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد ایران پر دباو بڑھا کر اسے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کرنا ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز ایران کے پاس ایک انتہائی طاقتور کارڈ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ڈیٹرنس طاقت بڑھانے کے ساتھ ساتھ مدمقابل پر دباو بھی ڈال سکتا ہے۔
جب تک ایران اس آبراہے سے انجام پانے والی انرجی کی تجارت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت برقرار رکھے گا اس وقت تک اس کے پاس مدمقابل کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کے لیے کم از کم ایک اہم ہتھکنڈہ موجود رہے گا۔ لہذا ایران کے پاس موجود اس اہم کارڈ کو غیر موثر بنانے کے لیے انجام پانے والی سرگرمیوں کو محض معاشی یا تکنیکی نوعیت کی حد تک تصور نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ایران اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے پاس موجود اہم ترین کارڈ غیر موثر ہوتا جا رہا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ فوراً اپنی اسٹریٹجی اور حکمت عملی میں مناسب تبدیلی پیدا کرے گا اور اس تبدیلی کی علامات کا مشاہدہ ایرانی حکام کے بیانات میں کیا جا سکتا ہے۔
آج ایران صرف درپیش معاشی مشکلات برداشت کرنے کی بات نہیں کر رہا بلکہ اس سے بڑھ کر موقف اختیار کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اس کی تیل کی برآمدات رک جائیں اور وہ ہمسایہ ممالک کو تیل کی تجارت اور برآمدات جاری رکھنے کی اجازت دے دے۔ ایران کے اعلی سطحی حکام نے خطے کے تمام ممالک پر واضح کر دیا ہے کہ جو ملک بھی امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی معاشی جنگ کا حصہ بنے گا اسے دشمن ملک تصور کیا جائے گا اور اس کے ساتھ دشمن ملک جیسا ہی سلوک بھی روا رکھا جائے گا۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جو ملک بھی امریکہ کے کہنے پر ایران سے تجارتی تعلقات منقطع کر لے گا ایران بھی اس کے خلاف ضروری اقدامات انجام دے گا۔
اس انداز کے بیانات ایک خاص پیغام کے حامل ہیں اور وہ پیغام یہ ہے: ایران معاشی دباو کو یکطرفہ کھیل میں تبدیل ہو جانے کی اجازت نہیں دے گا۔ لہذا اس تناظر میں کسی بھی ملک کی جانب سے امریکہ کے ایران کے خلاف معاشی دباو پر مبنی اقدامات میں سہولت کاری کا مطلب دشمنی پر مبنی اقدام اور خطے کی سیکورٹی مساوات میں تبدیلی کی صورت میں لیا جائے گا۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ ایران کے جارحانہ رویے نے ثالث ممالک کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف سید عاصم منیر کا ایران کا مختصر دورہ اور ایران کے اعلی سطحی حکام سے ملاقاتیں انجام دینے کا واحد مقصد مذاکرات کی بحالی نہیں بلکہ اس کا مقصد بحرانی صورتحال کو ایسے مرحلے تک پہنچنے سے روکنا بھی ہے جہاں سفارتی طریقہ کار ناممکن ہو جائے۔
لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ وائٹ ہاوس یا تو ایران کے کچھ مطالبات کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتا یا قبول کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ لہذا زیادہ اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا فریق پہلے اس نتیجے پر پہنچے گا کہ موجودہ کھیل جاری رکھنے کی زیادی قیمت چکانا پڑ جائے گی۔ ایسے میں آبنائے ہرمز معاشی جنگ اور فوجی ڈیٹرنس کے باہمی ملاپ کا مرکز بن سکتا ہے۔ ایسا مرکز جسے اگر سفارت کاری کے ذریعے کنٹرول نہ کیا گیا تو ممکن ہے یہ بحران معیشت کے دائرے سے نکل کر سیکورٹی نوعیت اختیار کر جائے۔ شاید امریکہ کی سب سے بڑی غلطی بھی یہ تصور ہے کہ وہ ایک ایک کر کے ایران کی طاقت کے تمام ہتھکنڈے ختم کر سکتا ہے اور ایران بھی محض خاموش تماشائی بنا رہے گا۔


































