شیعہ علما اور تنظیموں کے احتجاج پر انتظامیہ کا ایکشن ، علامہ اقبال ٹاون میں مرکز ولایت کو کنٹینر لگا کر سر بمہر کر دیا ،شرانگیزی کو روکنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات
کنونشن اور اس کا اہتمام کرنے والوں کا مکتب تشیع سے کوئی تعلق نہیں ،شیعہ علما اور رہنماوں کی حکام اور انتظامیہ کو آگاہی، ناکامی پر غالی دھمکیاں دینے پر اتر آئے
لاہور (نیوز ڈیسک) لاہور میں غالیوں اور نصیریوں کی ولایت کے نام پر شرانگیزی پھیلانے کی کوشش ناکام ہوگئی ،شیعہ علما اور تنظیموں کے احتجاج پر انتظامیہ نے 6 جولائی کو فتنہ گروں کو نام نہاد ولایت کنونشن کی اجازت نہیں دی اور پروگرام کو روکنے کیلئے علامہ اقبال ٹاون میں مرکز ولایت کو کنٹینر لگا کر سر بمہر کر دیااور شرانگیزی کو روکنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی اور فتنہ گر فساد اور انتشار پھیلانے میں ناکام ہوگئے ،
غالیوں نے کنونشن کی اجازت کیلئے 4جولائی کو لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا لیکن درخواست کی بروقت سماعت نہ ہوسکی، درخواست گزار رائے مزمل حسین نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ کنونشن میں ملک بھر سے ماتمی سنگتیں، ذاکرین عظام اور عزاداران شرکت کریں گے، کنونشن کیخلاف مجلس وحدت مسلمین،شیعہ علما کونسل ،آئی ایس او اور دوسری تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کے رہنماوں اور نمایندوں نے متعلقہ حکام ،حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں غالیوں کی تقریب کے خلاف اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ، حکام اور انتظامیہ کو بتایا گیا کہ اس کنونشن اور اس کا اہتمام کرنے والوں کا مکتب تشیع سے کوئی تعلق نہیں ،یہ شیعوں کانام لیکر ملک میں انتشار اور شیعہ سنی تفرقہ کو ھوا دینے کا ڈرامہ کر رھے تھے،دوسری جانب فساد پھیلانے میں ناکامی پر شرانگیزوں کا یہ ٹولہ دھمکیاں دینے پر اتر آیا ہے ، ٹولے کے سرغنہ ابوذر بخاری نے ایک انتہائی اشتعال انگیز ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں علما ئے کرام کیخلاف غلیظ زبان استعمال کی گئی ہے اور ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر جلانے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔


































