
انٹرویو: معصومہ فروزان
جہاں مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے، وہیں اہم اس وقت سوال یہ ہے کہ خطے میں طویل مدتی کشیدگی کب تک جاری رہے گی اور کون سی قوتیں طاقت کے توازن کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ حالیہ پیش رفت سے پتہ چلتا ہے کہ حالات ان طاقتوں کے حق میں ہیں، جنہوں نے ہم آہنگی اور محتاط حکمت عملی کے ساتھ خطرات کا مقابلہ کیا ہے۔ ایک یمنی مصنف اور علمی محقق "ایمان شرف الدین” نے اس سوال کا جواب کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حالات میں اسرائیل کا وجود کتنا پائیدار ہوگا؟ا نے کہا ہے کہ اسرائیل کے قبضے کو جاری رکھنے کی نہ تو منطق، نہ دلیل اور نہ ہی کوئی حقیقت ہے۔ وہ کہتا ہے: ایسا کوئی ثبوت اور حقیقت نہیں ہے، جو اسرائیل کے چند سالوں سے زیادہ زندہ رہنے کا جواز فراہم کرے۔ یہ وجود صرف چند سال تک رہے گا اور آخرکار ختم ہو جائے گا۔ دشمن کی ایک بھی پیشین گوئی سچ ثابت نہیں ہوگی۔
جب عرب جغرافیہ میں اسرائیل کے کردار کے بارے میں پوچھا گیا تو شرف الدین نے وضاحت کی کہ اسرائیل ایک خیالی وجود ہے، جسے عام طور پر ایک عارضی وجود کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور اس کے مستقبل کے زوال کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔ اس کا بظاہر خطے میں بڑا اثر و رسوخ ہے اور یہاں تک کہ اس نے مصر، اردن اور خلیج فارس کے ممالک پر بھی اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تاہم، یہ کنٹرول مطلق نہیں ہے اور ان ممالک میں یہودی ایک ایسا گروہ ہے، جو نہ تو عرب ہیں اور نہ ہی مسلمان۔ اس سوال کے جواب میں کہ مزاحمت کا محور کس حد تک مزاحمت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔؟ انہوں نے مزید کہا: دباؤ کے باوجود ایک ہی خطے کے متعدد ممالک نے ہمیشہ ڈٹ کر مزاحمت کی ہے۔ لبنان، عراق، یمن، شام اور ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک ٹھوس محاذ بنا لیا ہے۔
جب یمن کے بارے میں پوچھا گیا تو شرف الدین نے وضاحت کی کہ یمن ایک مقررہ و مستقل محاذ ہے اور اس نے اسرائیل اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والوں پر سخت بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ حتیٰ کہ لبنان بھی بتدریج منظرعام پر آرہا ہے اور غیر مسلح کرنے کے امریکی اسرائیلی فیصلوں کی مخالفت کر رہا ہے اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل "شیخ قاسم” نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کبھی بھی غیر مسلح نہیں ہوگی، چاہے اس کا مطلب دوسری کربلا ہی کیوں نہ ہو۔ ایک یمنی مصنف نے ایران اور بارہ روزہ جنگ کے بارے میں کہا ہے کہ اس جنگ میں ایران کو منفرد تجربہ ہوا اور اسرائیل نے ایسا تجربہ کیا، جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل اس عمل کو جاری رکھ سکتا ہے، "شرف الدین” نے جواب دیا: اسرائیل نے ہر چیز کو نظر انداز کر دیا ہے اور اس کا اصول سادہ ہے: "وجود یا عدم وجود۔” اس کے لیے کوئی حقیقی قاعدہ باقی نہیں بچا، سوائے اس کے کہ اسرائیل دنیا کے نقشے پر نہیں ہوگا۔ اگلے مرحلے کے لیے مزاحمتی محور کی تیاری کے بارے میں، انھوں نے واضح کیا: مزاحمتی بلاک حتمی ضرب لگانے کے لیے پوری طرح تیار اور مربوط ہے۔ پچھلے تمام مراحل کے بعد، سرپرائیز ہونے میں صرف تھوڑا وقت لگتا ہے۔ چاہے مشترکہ فضائی حملہ ہو یا زمینی حملے اور کئی محاذوں سے محاذ آرائی، کسی بھی وقت ممکن ہے۔ یہ کوئی پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ حقیقت کے میدان میں موجود مفروضوں اور مساوات پر مبنی حقیقی نتائج ہیں۔ "ایمان شرف الدین” نے آخر میں تاکید کی کہ "قصہ مختصر یہ کہ اسرائیل کے ساتھ تصادم کا خاتمہ قریب ہے۔”


































