
- لوگوں کی اجتماعی زندگی کی ضروریات کا لحاظ
مدینہ میں روز بروز گندم اور روٹی کی قیمت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ہر شخص پر وحشت اور پریشانی کے آثار غالب تھے۔ جس کے پاس سال بھر کا غلہ موجود نہ تھا وہ حاصل کرنے کی فکر میں لگا ہوا تھا اور جس کے پاس موجود تھا وہ حفاظت کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ ایسے افراد بھی تھے جو مفلسی کے سبب روزانہ کا غلہ بازار سے خریدتے تھے۔ حضرت امام جعفر صادقؑ نے معتب سے پوچھا جو آپ کے گھر کی ضروریات کا ذمہ دار تھا: کیا ہمارے گھر گندم موجود ہے؟ اس نے عرض کیا، جی ہاں: اے فرزند رسول اللہؑ! اتنی مقدار میں ہے کہ چند مہینوں کے لیے کافی ہوگا۔ امامؑ نے فرمایا: سارا گیہوں بازار میں لے جا کر فروخت کردو!
اس نے کہا: اے فرزند رسولؑ، مدینہ میں گندم نایاب ہے اگر اسے فروخت کر دیں گے تو دوبارہ خریدنا ہمارے لیے ممکن نہ ہوگا۔ مولا صادقؑ نے فرمایا: جو میں کہہ رہا ہوں اس کو انجام دو۔
معتب نے امامؑ کے حکم کو انجام دیا اور تمام گندم بیچ کر حضرتؑ کو مطلع کیا۔ امامؑ نے اسے حکم دیا کہ آج سے ہمارے گھر کی روٹی بازار سے لانا۔ ہمارے گھر کی روٹی اور لوگوں کے استعمال کی روٹی میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔ آج سے ہمارے گھر کی روٹی آدھی گندم اور آدھی جَو کی ہونی چاہیے۔ خدا کا شکر میں سال بھر تک گندم کی روٹی استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں لیکن ایسا کام نہیں کروں گا تاکہ اللہ کی بارگاہ میں جواب نہ دینا پڑے کہ میں نے لوگوں کی اجتماعی زندگی کی ضروریات کا لحاظ نہیں کیا۔


































