
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
اسلامی دنیا میں روشن فکری کی ترویج کی جاتی ہے اور ریاست کو مذہب سے الگ معاملہ دکھایا جاتا ہے، جس کا انسان کی اجتماعی زندگی میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے لوگ یہ نعرے لگاتے پائے جاتے ہیں کہ مذہب کو حکومت اور ریاست سے الگ ہونا چاہیئے۔ یہ لوگ مقدمہ کھڑا کرتے ہیں کہ ریاست مذہب سے ماورا تصور ہے اور اگر ترقی کرنی ہے تو مذہب کو ریاستی معاملات سے نکالنا ہوگا۔ ان تمام احباب کے لیے ضروری ہے کہ وہ برطانیہ کے بادشاہ کی رسم تاج پوشی کا دقت سے مشاہدہ کریں۔ یہ کسی طور پر بھی سیکولر تقریب نہیں ہے، ریاست کا سربراہ چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ اور مسیحیت کے محافظ ہونے کا حلف اٹھا رہا ہے۔ بین الاقوامی سائٹس دیکھ رہا تھا، لکھا تھا تقریباً 500 سالوں سے جاری روایت کے مطابق چارلس عقیدے کے محافظ اور چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کا خطاب حاصل کریں گے۔ وہ خدا کے قوانین اور انجیل کی حقیقی تعلیمات، پروٹسٹنٹ مذہب کو برقرار رکھنے اور چرچ آف انگلینڈ کی آبادکاری، اس کے نظریئے، عبادت، نظم و ضبط کو محفوظ رکھنے کی قسم کھائے گا۔
اس تاج پوشی کی ترتیب بھی بڑی اہم ہے، آرچ بشپ بادشاہ کو اسمبلی میں پیش کرتا ہے، جہاں وہ بلند آواز میں بادشاہ کو خدا بچائے بولتے ہیں، دوسرے مرحلے میں آرچ بشپ قانون اور چرچ آف انگلینڈ کو برقرار رکھنے کی قسم کھاتا ہے، تیسرے مرحلے میں آرچ بشپ کو بیت المقدس سے لائے گئے تیل مالش کرتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بادشاہ کو خدا کی طرف سے تقدس حاصل ہے۔ اس سے عوام کی نظروں میں بادشاہ کو تقدس حاصل ہو جاتا ہے۔ آج کل سونے کے پردے کے پیچھے یہ عمل انجام دیا جاتا ہے۔ چوتھے مرحلے میں بادشاہ تاج پوشی کی کرسی پر بیٹھ جاتا ہے، جہاں اسے دو عصا اور تاج پیش کیا جاتا ہے۔ پانچویں مرحلے میں بادشاہ کرسی چھوڑ کر تخت پر چلا جاتا ہے۔ جہاں سب اس کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ اب ذرا زیورات کی بات کر لیتے ہیں۔ رائل آرب بڑی سنہری گیند ہے، جسے 17ویں صدی میں بنایا گیا تھا۔ یہ عام قیمتی گیند نہیں ہے، اسے مسیحی دنیا پر خود مختار طاقت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس پر صلیب کا نشان بنا ہوا ہے۔
چارلس 3 کو سینٹ ایڈورڈ کا تاج پہنایا جائے گا، جیسا کہ اس سے پہلے اس کی ماں کو پہنایا گیا تھا۔ اس کا نام انگلینڈ کے آخری اینگلو سیکسن بادشاہ سینٹ ایڈورڈ دی کنفیسر کے نام پر رکھا گیا ہے، لیکن یہ تاج دراصل 1661ء میں چارلس II کے لیے ایڈورڈ کے قرون وسطیٰ کے تاج کے متبادل کے طور پر بنایا گیا تھا۔ اس میں ٹوپی ہے اور اس کے ساتھ ہی عیسائی دنیا کی علامت کراس کا نشان بنا ہوا ہے۔ اسے اسرائیلی بادشاہوں کی طرز پر بنایا گیا ہے، جس کی تفصیل عبرانی بائبل میں درج ہے۔ سرکاری تقریبات مذہبی زبان میں ہوتی ہیں۔ اسی طرح جس دعا کا اعلان سینٹ جیمز پیلس، لندن، ایڈنبرا، کارڈف اور ہلزبرو میں ہوا اور ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں پڑھا گیا، اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں: "اللہ ہماری ملکہ پر رحمت نازل کرے اور چارلس3 خدا کے فضل سے حکمرانی کرتا رہے۔ خدا سے دعا ہے کہ جس کے ذریعے ملکہ اور بادشاہ حکومت کرتے ہیں کہ وہ انہیں عظمت دے اور ہم پر حکومت کے لیے وقت دے۔”
ہاں ان دوستوں سے گزارش ہے کہ اگر ابھی بھی اطمینان نہ ہو رہا ہو تو ذرا امریکی صدر کی تقریب حلف برداری بھی دیکھ لیں، وہ بھی انجیل پر ہی ہوتی ہے۔ وہ عملی طور پر جو مرضی کرتے رہیں، مگر عام عوام کو یہ ضرور دیکھاتے ہیں کہ ہم مذہب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ مذہب کسی بھی معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے اور ریاست و مذہب کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ مغربی معاشروں میں مذہب مخالف قوتوں کی پوری کوشش کے باوجود ابھی بھی ریاست اور مذہب کا گہرا تعلق موجود ہے۔ یہاں تک کہ ریاستوں کے سربراہ مذہب کے تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں۔ ہمیں مذہب کو ریاست کی ترقی میں رکاوٹ بتانے والے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی جذباتی کوشش ہے۔ وہ ان حقیقی وجوہات پر بات نہیں کرتے کہ کیسے استکباری قوتیں بڑے پیمانے پر کمزور اور چھوٹی ریاستوں کے وسائل لوٹ رہی ہیں۔ کہیں سرمایہ دارانہ نظام کی تباہ کاریاں ہیں تو کہیں سوشل ازم کی بربادیاں ہیں۔
اس تقریب پر ایک سو پچیس ملین روپے خرچ ہوں گے۔ اس سے پہلے ملکہ کی وفات کی تقریبات پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ ہر مذہبی تقریب میں جمع تفریق کرنے والوں کو یہاں بھی کچھ حساب کتاب کرنا چاہیئے۔ یہاں انہیں برطانوی تہذیب اور تاریخی روایات جن سے برطانوی عوام محبت کرتی ہے، وہ یاد آجاتی ہیں مگر عید، شب برات اور قربانی پر بہرحال فضول خرچی کا طعنہ ہی دیا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسی تقریبات میں ملکہ صاحبہ کوہ نور ہیرا سر پر سجاتی ہیں، جو ان کی عظمت رفت کی یاد دلاتا ہے۔ اس بار ملکہ کمیلا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کوہ نور ہیرا نہیں پہنیں گی، شائد اس کی وجہ ساتھ بیٹھا وزیراعظم ہو، جس کے آباو اجداد گجرانوالہ سے برطانیہ چلے گئے تھے کہ اسی کے وطن سے لوٹ کر یہ ہیرا لایا گیا تھا۔ بہرحال سوال تو ہوگا پنچاب کی ملکیت یہ ہیرا لوٹ کر ملکہ برطانیہ کے تاج کا حصہ بنایا گیا، یہ ہزار سال بھی برطانیہ میں رہے تو لوٹا ہوا مال ہی ہوگا۔


































