
تحریر:آیت_اللہ_العظمی_مکارم_شیرازی
خواہش پرستی اور شہوت رانی نہ صرف انسان کی شخصیت کو معاشرے میں اور حتیٰ کہ اپنے نزدیک کم کر دیتی ہے، بلکہ اس کے اس سے بھی زیادہ خطرناک برے نتائج ہوتے ہیں۔ ان میں سے یہ ہے کہ قرآن مجید بارہا خواہش پرستی کو گمراہی کا سبب قرار دیتا ہے۔ سورہ ص آیت 26 میں حضرت داود علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
﴿وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ﴾
اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر ورنہ وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔
سورہ قصص آیت 50 میں ایسے لوگوں کو سب سے زیادہ گمراہ قرار دیا گیا ہے:
﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ﴾
اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش نفس کی پیروی کرے۔
ایک مشہور حدیث میں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی نقل ہوئی ہے اور امیر المؤمنین علیہ السلام سے بھی، دو چیزوں میں سے ایک جس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے لیے ڈرتے تھے وہ خواہش نفس کی پیروی ہے، کیونکہ یہ انسان کو حق سے روک دیتی ہے:
«أَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَىٰ فَإِنَّهُ يَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ»
رہا خواہش نفس کی پیروی تو وہ انسان کو حق سے روک دیتی ہے۔
امام جواد علیہ السلام کی ایک حدیث میں پڑھتے ہیں:
«رَاكِبُ الشَّهَوَاتِ لَا تُقَالُ عَثْرَتُهُ»
جو شخص شہوت پر سوار ہو، اس کی لغزش قابلِ معافی نہیں ہے۔
اصل میں جب شہوت پرستی کا معاملہ آتا ہے تو عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے اور عقل کی حکومت ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب انسان کے معاملات کا اختیار عقل سے چھن کر شہوت کے ہاتھ میں آ جائے تو اس کے لیے ہر قسم کی بد بختی یا خطرہ پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
اس موضوع پر بہت سی آیات اور روایات ہیں۔ اور ہم اس کلام کو امیر المؤمنین علیہ السلام کے اس قول کے ساتھ ختم کرتے ہیں جو غرر الحکم میں آیا ہے:
«الْعَقْلُ صَاحِبُ جُنْدِ الرَّحْمَنِ وَالْهَوَىٰ قَائِدُ جُنْدِ الشَّيْطَانِ وَالنَّفْسُ مُتَجَاهِدَةٌ بَيْنَهُمَا فَأَيُّهُمَا غَلَبَ كَانَتْ فِي حَيِّزِهِ»
عقل رحمن کے لشکر کا سردار ہے اور خواہش نفس شیطان کے لشکر کا کمانڈر ہے اور نفس ان دونوں کے درمیان جدوجہد کر رہا ہے، پس ان میں سے جو بھی غالب آ جائے، انسان اس کے دائرے میں آ جاتا ہے۔
یہی مطلب اسی بزرگوار کی ایک اور خوبصورت تعبیر میں نقل ہوا ہے، آپ نے فرمایا:
«الْعَقْلُ وَالشَّهْوَةُ ضِدَّانِ، وَمُؤَيِّدُ الْعَقْلِ الْعِلْمُ وَمُزَيِّنُ الشَّهْوَةِ الْهَوَىٰ، وَالنَّفْسُ مُتَجَاهِدَةٌ بَيْنَهُمَا فَأَيُّهُمَا غَلَبَ كَانَتْ فِي حَيِّزِهِ»
عقل اور شہوت دو ضد ہیں، عقل کا مددگار علم ہے اور شہوت کو آراستہ کرنے والی خواہش ہے، اور نفس ان دونوں کے درمیان جدوجہد کر رہا ہے، پس ان میں سے جو بھی غالب آ جائے، انسان اس کے دائرے میں آ جاتا ہے۔
کتاب : پیام امام امیرالمؤمنین علیہ السلام ۔ جلد ۲۰ ۔ ص ۲۹١ و ۲۹۲
مؤلف : مفسر قرآن و محقق بصیر حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی مد ظلہ العالی


































