
Oplus_16908288
تحریر: عادل فراز
28 فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن شروع کیا۔ ایران پر ہوئے اس حملے میں بنیادی ہدف ایران کی اعلیٰ قیادت تھی۔ یوں تو حملہ ایران کے مختلف مقامات پر ہوا مگر رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ایؒ کے گھر کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ اپنے خانوادے کے مختلف افراد سمیت شہید ہوگئے۔ حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ایؒ اہم کمانڈروں اور سیاسی شخصیات کے ساتھ اپنے گھر پر موجود تھے۔ لہذا اعلیٰ قیادت کے کئی اہم افراد بھی حملے کی زد میں آئے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایران کو حملے کی بھنک نہیں تھی۔ رہبر معظمؒ کو بھی متوقع حملے سے آگاہ کیا گیا اور سپاہ پاسدار کے افراد نے ان سے محفوظ پناہ گاہ چلنے کے لئے اصرار کیا۔ مگر وہ اس پر راضی نہیں ہوئے اور جواب دیا کہ ’اگر آپ نو کروڑ عوام کو بنکروں میں لے جاسکتے ہیں تو میں بھی جانے کے لئے تیار ہوں۔‘ یہ جواب وہی لیڈر دے سکتا ہے جس کو موت کا مطلق خوف نہ ہو اور جو اپنے ملک اور عوام سے مخلص ہو۔ ورنہ ہم نے دنیا کے بڑے بڑے لیڈروں کو ایسی جنگی صورت حال میں عوام کو چھوڑ کر فرار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آج شاہ ایران کا بیٹا رضا پہلوی جو ایران کے اقتدار پر رال ٹپکائے ہوئے ہے، اس کا باپ محمد رضا شاہ پہلوی بھی امام خمینیؒ کے انقلاب کے وقت اپنے حامیوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر امریکہ بھاگ گیا تھا۔ ایسے لیڈر جو اپنے حامیوں کے نہیں ہوئے وہ آج ملت ایران سے نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامیؒ کو اپنی شہادت کا یقین ہوچکا تھا۔ یوں بھی ان کے مقدر میں شہادت ہی تھی کیونکہ جس لیڈر نے شہادتوں کا محاذ سجایا۔ اپنے نوجوانوں کو شہادت کے لئے تیار کیا۔ ہزاروں شہیدوں کے جنازے پڑھائے، اس کے مقدر میں یقیناً شہادت کا شرف تھا۔ دنیا اس جذبے کو سمجھنے سے قاصر ہے جو خالص اسلامی اور قرآنی جذبہ ہے۔ قرآن شہادت کو زندگی کے اختتام سے تعبیر نہیں کرتا بلکہ ایک نئی زندگی کی نوید دیتا ہے۔ شہادت سعادت ہے ننگ و عار نہیں لہذا جو لوگ اس جذبے اور تصور کو درک نہیں کرسکتے کبھی شہادت کے شرف اور اس کی تمنا کے اضطراب کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ بہادر شہادت کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ اپنی عبادتوں میں اس مقام شرف کو پانے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ شہادت کی تلاش میں میدان جنگ میں دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگ بستر پر مرنے کو ننگ سمجھتے ہیں اور میدان میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے مرنے کو افتخار کا باعث۔ عالمی میڈیا کی اس سے زیادہ رسوائی اور کیا ہوگی کہ جس لیڈر کے لئے ہمیشہ وہ کہتے رہے کہ بنکر میں جاکر چھپ گئے وہ اپنے گھر میں درجۂ شہادت پر فائز ہوئے۔
آیت اللہ خامنہ ای ؒشہید ہوگئے مگر ان کا نظریہ زندہ ہے۔ وہ ایک شخص نہیں بلکہ ایک تحریک تھے، دشمن ان کی فکر اور نظریے کو کبھی ختم نہیں کرسکتا۔ ایران میں نظام کی تبدیلی بھی اس نظریے کی چمک کو ماند نہیں کرپائے گی، جو دشمن کا ’کبھی نہ پوارا ہونے والا خواب ‘ہے۔ تاریخ گواہ ہے تاریخ ساز افراد کبھی نہیں مرتے۔ وہ اپنے نظریے کے ساتھ ہر زمانے میں زندہ رہتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای تنہا ایران کے لیڈر نہیں تھے بلکہ پوری دنیا کے حریت پسند افراد کے لئے مشعل راہ تھے۔ انہوں نے غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ذہنوں کو بیدار کیا، امت مسلمہ کے انتشار کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، ان کی شہادت کے بعد دنیا نے بچشم خود ان کے لہو کی تاثیر کو ملاحظہ کیا۔ ہر مذہب اور رنگ و نسل کے افراد ان کی شہادت پر گریہ کناں ہیں۔ ہم نے کبھی مسلمانوں کے فرقوں کو کسی لیڈر کی شہادت پر اس طرح روتے اور تڑپتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مسلم نوجوان جو اپنی مسلکی تفریق مٹاکر ان کی شہادت کے جلسوں اور جلوسوں میں شامل تھے دنیا کو پیغام دے رہے تھے کہ اب رہبر انقلاب اسلامی کی شخصیت جغرافیائی حدود میں قید نہیں ہے۔
آیت اللہ خامنہ ایؒ کو رہبر انقلاب اسلامی کہا جاتا تھا۔ رہبر انقلاب اسلامی ایک آفاقی اصطلاح ہے جو آفاقی شخصیات سے مخصوص ہے۔ انہوں نے کبھی اپنی شخصیت کو ایران کے دائرے میں محدود نہیں کیا۔ ان کےافکار، پیغامات اور بیانات ہمیشہ ہمہ گیر ہوتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کے مظلوموں اور کمزوروں کے لئے صدائے احتجاج بلند کی۔ خاص طورپر فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے عزم و استقلال میں نئی روح پھونکی۔ خطے میں مقاومتی محاذ کو نئی زندگی بخشی اور بکھرے ہوئے مجاہدوں کو ایک مقصد کے تحت جمع کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہمیشہ مسئلہ فلسطین کو اٹھایا اور اس کے حل کا مسودہ پیش کیا۔ ان کے نمائندے جب بھی اقوام متحدہ میں پہونچتے پوری دنیا گوش بر آواز ہوتی تھی۔ داعش کا خاتمہ ان کے عزم و حوصلے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ عراق کا موجودہ استقلال رہبر انقلاب اسلامی کے عزم مصمم کا مرہون منت ہے۔ آج اگر عراق اور یمن میں مزاحمت کا جذبہ موجود ہے تو انہیں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ لبنان، شام اور یمن میں اگر سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان کے پس پردہ رہبر انقلابؒ کی فکر کارفرما تھی۔ شام کے سقوط کے وقت بھی انہوں نے شام کے نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑا اور انہیں دشمن کی سازشوں سے خبردار کیا۔ اگر شام کا اقتدار استعماری طاقتوں کی مدد سے جولانی کی طرف منتقل نہیں ہوتا تو غزہ اور لبنان کی صورت حال اتنی بدتر نہیں ہوتی مگر بشارالاسد کی سیاسی ناعاقبت اندیشی اور عزم و ارادے کی کمی نے شام کو دہشت گردوں کے حوالے کردیا۔
آیت اللہ خامنہ ایؒ کی شخصیت کو ایک مضمون یا ایک کالم میں نہیں سمیٹا جاسکتا۔ ان کے خدمات اور افکار کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ مستقبل میں بہت سے حقائق ہمارے سامنے منور ہوں گے اور دنیا ان کی شخصیت کے سحر سے کبھی باہر نہیں نکل سکے گی۔ اتنا بے باک، شجاع، مدبر اور منصوبہ ساز لیڈر اس صدی میں پیدا نہیں ہوا۔ جس زمانے میں دشمن مسلسل یہ کہہ رہا تھا کہ اب ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا اور وہ ہمارے خوف سے بنکر میں جاچھپے ہیں، اسی دوران انہوں نے تاریخی نماز جمعہ کا اعلان کیا۔ ایک چھیاسی سال کے بوڑھے نے اعلانیہ نماز جمعہ کے خطبے سے دشمن کو للکارا اور پیغام دیا کہ علیؑ والے کبھی ڈرتے ہیں اور نہ چھپتے ہیں۔ یہ پہلی ایسی نماز جمعہ تھی جس کا خطبہ پوری دنیا میں براہ راست نشر ہوا اور مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ پوری دنیا کے لیڈر حواس باختہ ان کے بیان کو سن رہے تھے کیونکہ جس طاقت کے سامنے کسی کو لب کھولنے کی جرأت نہیں ہوتی، اس کو رہبر انقلاب اسلامی للکار رہے تھے۔ اسی للکار نے امت مسلمہ کے مردہ ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ حریت پسندوں کا محور بن گئے۔
آیت اللہ خامنہ ایؒ عالمی طاقتوں کو کبھی خاطر میں نہیں لائے۔ 13 جون 2019ء کو جب جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے، امریکی صدر ٹرمپ کا پیغام لے کر ان کے پاس پہونچے تو انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ ٹرمپ کو گفتگو کے لائق نہیں سمجھتے، ان کے اس بیان نے دنیا کو ششدر کردیا تھا۔ موجودہ دور اقتدار میں بھی ٹرمپ نے مسلسل پیغامات بھجوائے کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای سے گفتگو کے لئے تیار ہے مگر انہوں نے کبھی ٹرمپ کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ عالمی طاقتوں کو ہمیشہ نظام ولایت فقیہ کا یہی رویہ کھٹکتا رہا اور آئندہ بھی اس رویے میں نرمی نہیں دیکھی جاسکے گی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔ چونکہ ہم نے انہیں ایک سیاسی لیڈر کے طور پر زیادہ دیکھا لہذا ہم اسی تناظر میں زیادہ بات کرتے ہیں، مگر وہ بیک وقت ایک سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ معلم اخلاق، فقیہ، مشفق سیاست مدار اور شاعر و ادیب بھی تھے۔ ان کی موجودگی میں شعری نشستیں منعقد ہوتی تھیں جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے منتخب شعرا اپنا کلام پڑھتے۔ وہ خاموش بیٹھ کر ان کا کلام ہی نہیں سنتے بلکہ اچھے شعر پر داد و تحسین سے بھی نوازتے تھے۔ روزآنہ مختلف وفود سے ملاقاتیں کرکے انہیں نصیحتیں فرماتے۔ کبھی اخلاق کا درس دیتے تو کبھی فقہ و حدیث کا۔ ان کی تقاریر کے مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتنا مصروف رہنما مطالعے کے لئے کب اور کیسے وقت نکالتا ہوگا۔ ان کے علمی اور فکری آثار پر آئندہ مستقل کام ہوگا جس کی ذمہ داری نوجوان نسل پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔ غرض کہ دنیا نے ایسا رہنما کھو دیا ہے جس کی دوراندیشی، بہادری اور سیاست مداری کا زمانہ قائل تھا۔ اب جب کہ مجلس خبرگان رہبری نے ان کے فرزند ارجمند آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر منتخب کرلیا اور اب ولایت فقیہ کا نظام ان کے سپرد ہے تو دنیا ایک بار پھر حیران رہ گئی۔ کیونکہ ٹرمپ بار بار کہہ رہا تھا کہ ہم مجتبیٰ خامنہ ای کو قبول نہیں کریں گے اور نیا رہبر ہماری مرضی سے منتخب ہوگا، مگر ایران نے ثابت کردیا کہ حسینی اللہ کے علاوہ کسی دوسری طاقت کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس انتخاب کے بعد جنگ اور نظام ولایت نئے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں۔


































