دوسرے ہفتے بھی تما م 50ریاستوں ابور دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں لاکھوں افراد کے مظاہرے اور ریلیاں، احتجاج میں 20 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی
جارج فلائیڈ کو ٹیکساس میں سپرد خاک کردیا گیا، برطانیہ بھر میں نسلی تعصب اور پولیس تشدد کے خلاف مظاہرے، نسلی امتیاز کی یادگاریں گرانے کاکام شروع
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا میں نسل پرستی اور سیاہ فام برادری سے منافرت کے خلاف تحریک امریکا سے نکل کر برطانیہ جاپہنچی، امریکا میں پولیس تشدد سے سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر شروع ہونے والے احتجاج میں 20 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ 10 ہزار افراد کو گرفتارکرلیا گیا ، دوسرے ہفتے بھی نیو یارک، نیو اورلینز اور مینی سوٹا سمیت امریکا کی تما م 50ریاستوں اور دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے نسلی منافرت کیخلاف ریلیاں نکالیں مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جبکہ اہم عمارتوں کی سیکیورٹی نیشنل گارڈز کے حوالے کر دی گئی ہے،ادھر جارج فلائیڈ کو ریاست ٹیکساس میں ان کے آبائی شہر کے قریب قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، یوسٹن کے ایک چرچ میں انتہائی جذباتی تعزیتی تقریب میں500 افراد نے شرکت کی، جن میں جارج فلوئڈ کے رشتہ دار، دوست، سیاست دان اور کئی مشہور شخصیات شامل تھیں،بیشتر سوگواروں نے سفید لباس پہن رکھا تھا، پادری ریمس رائٹ نے دعائیہ تقریب میں جارج فلوئڈ کو خراج عقیدت پیش کیا، برطانیہ بھر میں نسلی تعصب اور پولیس تشدد کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے ، ہزاروں مظاہرین نے لندن میں امریکی سفارتخانے کا گھیراو بھی کرلیا ، برطانوی شہریوں نے بھی سفید فام نسلی امتیاز اور غلاموں کی تجارت کی یادگاروں، مجسموں کو ختم کرنے اور مقامات کے نام تبدیل کا مطالبہ کیا ہے اور کئی مجسمے گرادئے گئے ہیں، میئر صادق خان نے بھی سفید فام نسلی امتیاز، غلاموں کی تجارت اور برطانوی سامراج کی یاد تازہ کرنے والے مجسموں کو لندن سے ہٹانے کا کہہ دیا۔
- Home
- بین الاقوامی خبریں
- امریکہ
- نسل پرستی کیخلاف تحریک امریکا سے برطانیہ پہنچ گئی ،شدید…


































